رسائی کے لنکس

’انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے بنیادی عوامل پر توجہ دی جا رہی ہے‘


خیبر پختون خواہ کے اسپیکر، اسد قیصر نے صوبے میں تعلیمی شعبوں میں سرکاری کوششوں کے حوالے سے بتایا کہ چار نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن میں سے دو لڑکیوں کے لیے مخصوص ہیں

خیبر پختون خواہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ان بنیادی عوامل پر توجہ دے رہی ہے جو انتہا پسندی کا سبب بنتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور تحریک انصاف کے ایک سینئر لیڈر، اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں تعلیم اور بیروزگاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

وہ اِن دِنوں، صوبے سے تعلق رکھنے والے دو ارکان اسمبلی کے ساتھ امریکہ کے دورے پر ہیں۔

صوبے میں تعلیمی شعبوں میں سرکاری کوششوں کے حوالے سے اُنھوں نے بتایا کہ چار نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن میں سے دو لڑکیوں کے لیے مخصوص ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ اُنھیں علاقے میں داعش کی موجودگی کے بارے میں کافی اطلاعات نہیں ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے اس عزم کو دہرایا کی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں، جسے براہ راست ٹیلی وژن پر بھی دکھایا گیا، اسد قیصر کے ساتھ سوات سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے رکن، ڈاکٹر حیدر علی خان نے بھی شرکت کی اور سوالوں کے جوابات دیے۔

اُنھوں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ اُن کے دورے کا مقصد خیبر پختون خواہ کے بارے میں ایک مثبت تصویر پیش کرنا ہے جہاں کے لوگ امن اور محبت چاہتے ہیں۔

اُنھوں نے صوبے میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔

اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اچھی حکمرانی ہے۔ اسی لیے صوبائی حکومت نے اصلاحی ایجنڈے کو قانونی شکل دے کر، بقول اُن کے، صوبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے، اب ہر ادارہ اور شخص احتساب کی زد میں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اصلاحی ایجنڈے کے مطابق، 78 نئے قوانین بنائے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے ذریعے اختیارات نچلی سطح پر دیے گئے ہیں اور رائٹ آف انفارمیشن، رائٹ آف سروس کے قوانین کے ذریعے عوام کو خصوصی اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرکے اور سرکاری اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرکے عوام کو سماجی انصاف فراہم کردیا ہے۔

اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے اِن اقدامات سے صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور اگر آپریشن مکمل ہوجائے تو بقیہ علاقوں میں بھی امن و امان کی صورت حال بہتر ہوجائے گی۔

ایک سوال پر اُنھوں نے کہا کہ پشاور میں میٹرو بس منصوبے کی بجائے شاہراہوں کو وسیع کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع کردی گئی ہے جس کے بعد جلد ہی ٹرانسپورٹیشن کا جدید نظام پرائیویٹ سیکٹر میں فراہم کردیا جائے گا۔

پروگرام میں موجود صوبائی اسمبلی میں انٹی کرپشن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر حیدر علی خان نے الزام لگایا کہ گذشتہ حکومت نے کرپشن کو گویا ایک جائز شکل دے دی تھی۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے کرپشن کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے، اس لیے اِن دِنوں ایک پٹواری سے لے کر سکریٹری اور وزیر تک جیلوں میں پڑے ہیں اور صوبائی محکمہ انٹی کرپشن نے صرف گذشتہ 10 ماہ کے عرصے میں ایک ارب چالیس کروڑ روپے کے جرمانے وصول کیے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ حکومت ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے، صوبے میں موٹروے کی تعمیر اور ملک کی پہلی ٹیکنکل یونیورٹی کے قیام کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، تاکہ لوگوں کو روزگار میسر ہو اور وہ انتہاپسندی سے ہٹ کر صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

تفصیل کے لیے وڈیو لنک پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG