رسائی کے لنکس

بشار الاسد کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی: تجزیہ کار

  • بہجت جیلانی

صدر ٹرمپ کا خطاب

پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں ایک تجزیہ کار نے کہا کہ ’’اس طرح کی کارروائی کوئی ’گیم چینجر‘ نہیں؛ بشار الاسد اپنی پوزیشن پر قائم رہیں گے۔ لیکن، وہ طویل عرصے تک اِس طرز عمل سے حکومت نہیں کر سکتے‘‘

شام کے ایک ہوائی اڈے پر امریکہ کے میزائل حملوں کے بارے میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، پاکستان اور بھارت کے تجزیہ کاروں نے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں صورت حال کا جائزہ لیا۔

اس سوال پر کہ اگلا اقدام کیا ہو سکتا ہے، نیویارک سے محسن ظہیر نے کہا کہ یہی سب سے بڑا سوال ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ کی ایک محدود کارروائی تھی۔ بقول اُن کے، ’’اس سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ شام پر بین الاقوامی برادری کے جو تحفظات ہیں کہ اگر وہ ’ریڈ لائن کراس‘ کرا ہے، تو پھر اگلا قدم طاقت کا استعمال ہی ہو سکتا ہے، جو ابھی محدود ہے۔ لیکن، آئندہ بڑے پیمانے پر بھی ہو سکتی ہے‘‘۔

پاکستان سے برگیڈیئر (ر) عمران ملک نے کہا کہ ’’بین الاقوامی برادری کو اپنا مشترکہ دشمن تلاش کرنا چاہیئے اور اگر وہ داعش ہے تو اُس کے خلاف مل کر کارروائی کرنا چاہیئے۔ پھر خطے کی اہم طاقتوں کے ساتھ بیٹھ کر اُن کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیئے اور آخری قدم کے طور پر زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیئے‘‘۔

بھارت سے ڈاکٹر منیش کمار کا کہنا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اپنے عوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ سخت مؤقف اپنا رہے ہیں۔ اُن کے خیال میں،’’ یہ ایک بار کی جانے والی کارروائی ہے جس کو وسعت نہیں دی جائے گی‘‘۔ اِس معاملے پر، بھارت میں ردِ عمل ملا جلا ہے، لیکن ابھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

لندن سے منظر وسیم نے کہا کہ یورپ میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس امریکہ کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن، اس میں اضافہ نہیں چاہتے کیونکہ اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے وہ لڑائی کو بڑھانے کے خواہاں نہیں ہیں۔

جرمنی سے ڈاکٹر حسین نے کہا کہ اُن کے خیال میں اس طرح کی کارروائی کوئی ’گیم چینجر‘ نہیں؛ اور بشار الاسد اپنی پوزیشن پر قائم رہیں گے۔ لیکن، بقول اُن کے، ’’وہ طویل عرصے تک اس طرح سے حکومت نہیں کرسکتے۔ لیکن، فوری طور پر یہ امکان نہیں کہ اُن کے مخالف گروپ اُن کو شکست دے دیں گے‘‘۔

تفصیل سننے کے لیے، آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG