رسائی کے لنکس

قوم پرست جماعت ’جئے سندھ قومی محاذ‘ (جسقم) پچھلے تین دنوں سے گھوٹکی، کندھ کوٹ اور شکارپور میں واقع متحدہ قومی موومنٹ کے دفاتر کے سامنے احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کر چکی ہے، جبکہ بدھ کو لاڑکانہ میں دھرنوں کا اعلان کیا گیا ہے

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سندھ میں نئے صوبوں کے مطالبے پر اندرون سندھ قوم پرستوں کی جانب سے احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔

قوم پرست جماعت ’جئے سندھ قومی محاذ‘ (جسقم) پچھلے تین دنوں سے گھوٹکی، کندھ کوٹ اور شکارپور میں واقع متحدہ قومی موومنٹ کے دفاتر کے سامنے احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کر چکی ہے، جبکہ بدھ کو لاڑکانہ میں دھرنوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں، بالائی سندھ کے دیگر شہروں میں بھی دھرنے دیئے جا رہے ہیں۔ پارٹی رہنما اور سنیئر وائس چیئرمین، ڈاکٹر نیاز کالانی کے مطابق ’ہم اردو بولنے والوں کے نہیں، سندھ کی تقسیم چاہنے والی ایم کیوایم کی قیادت کے خلاف ہیں۔‘

قوم پرست رہنماوٴں کا کہنا ہے کہ اگرسندھ کی تقسیم کا مطالبہ واپس نہ لیا گیا تو ایم کیوایم کے مرکز ’نائن زیرو‘ پر بھی احتجاج کیا جائے گا۔ نیاز کالانی کا کہنا ہے کہ ’سندھ پہلے بھی ایک تھا اور ہمیشہ ایک رہے گا۔‘

گھوٹکی پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں لوگوں نے ایم کیو ایم کے خلاف نعروں والے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ مظاہرین میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ دوران احتجاج، انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

ڈاکٹر نیاز کالانی نے اپنی تقریر میں ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم اتحادی رہی ہیں اور دونوں ہی اپنے سیاسی فائدے کے لئے سندھ کو استعمال کرتی رہی ہیں۔‘

دوسری جانب، ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق کا کہنا ہے ’پرامن احتجاج ہر پارٹی کا جمہوری حق ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’نئے صوبے کا مطالبہ لوگوں میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کی وجہ سے کیا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم، سندھ سمیت پورے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام چاہتی ہے، تاکہ لوگوں کے مسائل حل کئے جاسکیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’سندھ کے شہری علاقوں کو ترقی سے محروم رکھا گیا، کیونکہ حکومت کراچی اور دیگر شہری ڈسرکٹ کی اردو بولنے والی کمیونٹی کے خلاف یکساں رویہ نہیں رکھتی۔‘

XS
SM
MD
LG