رسائی کے لنکس

مبینہ دھاندلی: کمیشن کا کھلی عدالت میں سماعت کا فیصلہ


چیف جسٹس ناصر الملک

چیف جسٹس ناصر الملک

چیف جسٹس ناصر الملک کے قیادت میں قائم تین رکنی بینچ کے پہلے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ عام انتخاب میں شریک تمام سیاسی جماعتوں اپنی تجاویز کمیشن میں جمع کروا سکتی ہیں۔

پاکستان میں مئی 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے عدالتی کمیشن کا پہلا اجلاس جمعرات کو بند کمرے میں ہوا۔

چیف جسٹس ناصر الملک کے قیادت میں قائم تین رکنی بینچ کے پہلے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ 2013ء کے عام انتخاب میں شریک تمام سیاسی جماعتیں اپنی تجاویز کمیشن میں جمع کروا سکتی ہیں۔

کمیشن نے سماعت کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ کیا اور پہلی سماعت 16 اپریل کو ہو گی۔

بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک نے تین رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا، دیگر دو ججوں میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان شامل ہیں۔

یہ کمیشن 45 روز میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف گزشتہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلی تھی اور اس نے گزشتہ اگست میں پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا جو تقریباً چار ماہ تک جاری رہا۔

حکمران مسلم لیگ ن پی ٹی آئی کے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ وہ منظم دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کے کئی دور ہوئے جو بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ لیکن بالآخر گزشتہ ہفتے دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر فریقین میں اتفاق کے بعد صدر پاکستان نے اس کی تشکیل کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا تھا۔

اپنا مطالبہ منظور ہونے پر تقریباً سات ماہ بعد پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں واپس آئے۔ ان ارکان نے استعفے دے دیے تھے لیکن وہ منظور نہیں کیے گئے۔

عدالتی کمیشن کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ اپنی تحقیقات کے سلسلے میں کسی بھی سرکاری اہلکار کو اپنے سامنے طلب کر سکتا ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک الیکشن کمیشن کے قائم مقام سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ گزشتہ سال 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اگر کسی کے پاس اس کے شواہد ہیں تو وہ الیکشن ٹربیونل سے رابطہ کرے۔

گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات تقریباً سب ہی جماعتوں کی طرف سے سامنے آچکے ہیں لیکن صرف پاکستان تحریک انصاف نے اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جس سے حکومت کے بقول ملک کو معاشی طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ دھاندلیوں کی تحقیقات سے ان کے بقول آئندہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات کے وقت سابق جج فخر الدین جی ابراہیم الیکشن کمیشن کے سربراہ تھے جنہیں تقریباً سب ہی سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔

انھوں نے دھاندلی کے الزامات سامنے آنے کے بعد جولائی 2013ء میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG