رسائی کے لنکس

ریلی سے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم سعودی عرب میں واقع مقدس مقامات یعنی ’حرمین شریفین‘ کے دفاع کے لئے تیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی ہر امتحان پر پورا اترے گی

کراچی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک ماہ پہلے شروع ہونے والا جلسے، جلوس یا ریلیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے بعد جمعہ کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے ایک ریلی نکالی گئی۔

ریلی سے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم سعودی عرب میں واقع مقدس مقامات یعنی ’حرمین شریفین‘ کے دفاع کے لئے تیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی ہر امتحان پر پورا اترے گی۔

مقامی پارٹی رہنماوٴں کی جانب سے وائس آف امریکہ کو ریلی کے انعقاد کے مقاصد کے حوالے سے بتایا گیا کہ ریلی کا پہلا مقصد یمن کی موجودہ صورتحال کو اجاگر کرنا اور سعودی عرب کی حمایت جبکہ دوسرا مقصددینی مدارس کا تحفظ ہے۔

خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اکیسویں ترمیم کی کوئی وقعت نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسے دینی مدارس کے خلاف لایا گیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کسی امتیازی قانون کو ماننے پر رضامند نہیں، اکیسویں ترمیم امتیازی قانون ہے۔ یہ مذہب اور دینی مدارس کے خلاف ہے۔‘

ریلی سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولا ناعبدالغفور حیدری نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کے مقتول عہدیدار خالد سومروکے انتقال نے کارکنوں میں نئی روح پھونکی ہے۔ خالدسومرو کے فرزند بھی اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ریلی جمعہ کی نماز کے بعد سہراب گوٹھ سے شروع ہوئی جبکہ اس کی منزل وزیراعلیٰ ہاوٴس تھا۔ ریلی میں زیادہ تعداد دینی مدارس کے طلباء کی تھی۔ شرکاء نے ریلی کے دوران نعرے لگائے، جبکہ انہوں نے مختلف بینرز اور پوسٹرز بھی اٹھائے ہوئے تھے۔

جمعہ سے قبل 24 اپریل کو بھی گرومندر سے تبت سینٹر تک جے یو آئی کی طرف سے ایک ریلی کا انعقاد ہو چکا ہے، جس میں مختلف علماء اور دینی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔

XS
SM
MD
LG