رسائی کے لنکس

برطانیہ: 7/7 بم حملوں کی دسویں برسی منائی گئی


ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے، برطانوی وقت کے مطابق گیارہ بجکر تیس منٹ پر ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی

برطانیہ میں منگل کو لندن کی زیر زمین ٹرینوں اور بس پر ہونے والےحملوں کے دس برس پورے ہونے کی یاد منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر 7/7 بم حملوں کے 52 ہلاک شدگان کی یاد میں ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

لندن میں سات جولائی 2005ء میں شہر کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر ہونے والے حملے یورپ کی سرزمین پر پہلا خودکش حملہ تھا۔ بدترین دہشت گردی کےاس حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے چار شدت پسند ملوث تھے۔

لندن بم حملوں کی برسی کی مناسبت سے دارالحکومت لندن اور برطانیہ بھرمیں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب کا آغاز مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجکر پچاس منٹ پر کیا گیا، ٹھیک اس وقت جب تین زیر زمین چلنے والی تین ٹرینوں کو دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔

برطانوی وقت کے مطابق، گیارہ بجکر تیس منٹ پر ملک بھر میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور دھماکے کا نشانہ بننے والے مقامات پر پھول رکھے گئے۔

اس واقعے کی یاد میں بس سروس کی خدمات میں ایک منٹ کا توقف کیا گیا اور لندن ٹرین نیٹ ورک پر بھی ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور تمام ٹرینوں کو مقررہ وقت پر روک دیا گیا۔

لندن سینٹ پال کیتھیڈرل چرچ میں ایک دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،جس میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، لندن کے میئر بورس جانسن اور ہلاک شدگان کے رشتہ داروں اور بم حملے کے متعدد زخمیوں سمیت معززین شہر، ہنگامی امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سینٹ پال کیتھیڈرل چرچ میں چاروں بم حملوں کے لیے چار علامتی موم بتیاں روشن کی گئیں اور مرنے والوں کے ناموں کو بلند آواز میں پکارا گیا اور ایک منٹ کی خاموشی میں مرنے والوں کو یاد کیا گیا۔

اس سلسلے کی ایک پروقار تقریب لندن کے ہائیڈ پارک میں ہوئی، جہاں 7/7 بم حملوں کے متاثرین کی یادگار پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون ،بورس جانسن، سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت ہلاک شدگان کے رشتہ داروں نے پھول کی چادر چڑھائی۔

وزیر اعظم ڈیوڈ یمرون نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ'یہ ایک ایسا دن ہے جب ہم ناقابل یقین عزم اور قرارداد لندن اور برطانیہ کو یاد کرتے ہیں اور سب سے بڑھکر اس روز متاثرین کےخاندانوں کےحوصلے کے بارے میں سوچتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ وقت سے گزرے تھے'۔

انھوں نے کہا کہ'تیونس کے ساحل سمندر پر قاتل عام کے خطرے سے ظاہر ہوگیا ہے کہ خطرہ دس برس بیت جانے کے بعد آج بھی موجود ہے۔ لیکن، قوم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سامنے بزدل نہیں بنیں گی۔'

لندن کے میئر بورس جانسن نے کہا کہ'دہشت گرد لندن کے بنیادی اصولوں کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ شہر دس سالوں میں مزید طاقتور ہوا ہے'۔

رسل اسکوائر جہاں ٹرین حملے کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے اس سلسلے کی ایک تقریب ہوئی جبکہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ کی طرف سے بھی نجی طور پر متاثرہ ٹیوب اسٹیشنوں پر اور خود کش بم کا نشانہ بننے والی بس کے مقام پر پھول رکھے گئے۔

اس موقع پر کنگ کراس اسٹیشن پر ایک جذباتی منظر نظر آیا جہاں ٹرین حملے میں بچ جانے والی خاتون گل ہکس جو اس واقعے کے نتیجے میں دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گئی ہیں۔ ان کی ملاقات اس پولیس آفیسر سے کرائی گئی جنھوں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا خاتون کو ٹرین سے باہر نکالا تھا۔

قومی یکجہتی کے اظہار کے لیے لندن کے شہریوں نے سات جولائی کو 'واک ٹوگیدر' کا اہتمام کیا اور بسوں اور ٹرینوں سے سفر کرنے والے سینکڑوں مسافروں نے منزل سے ایک اسٹیشن پہلے اتر کر مرنے والوں کی یاد میں پیدل سفر کیا۔

مرکزی لندن کی زیر زمین ریلوے اسٹیشن اور بس پر یہ دھماکے عین مصروفیت کے اوقات میں کئے گئے تھے، جس کا ہدف وہ شہری بنے جو زیر زمین ریلوے اور بسیں استعمال کرتے ہیں پہلا دھماکہ لیورپول اسٹریٹ اسٹیشن کے قریب سرنگ میں ہوا اور دوسرا دھماکہ رسل اسکوائر کے زیر زمین ریلوے اسٹیشن پر اور تیسرا دھماکہ ایجوئر روڈ اور چوتھا دھماکہ ٹیواسٹاک اسکوائر پر ایک دومنزلہ بس نمبر تیس میں ہوا تھا۔

یہ برطانیہ کی سرزمین پر بدترین دہشت گردی کی ایک مثال تھی جس میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG