رسائی کے لنکس

واشنگٹن کا نیشنل کیتھیڈرل چرچ اذان کی آواز سے گونج اٹھا


کیتھیڈرل چرچ میں جمعے کی نماز کا خطبہ امریکہ میں جنوبی افریقہ کے سفیر ابراہیم رسول نے دیا۔ ابراہیم رسول نے اس موقعے پر امریکہ میں مذہبی رواداری بڑھانے کی کاوشوں کی تعریف کی

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں تاریخی اہمیت کے حامل اور امریکہ کے بہترین گرجا گھروں میں سے ایک شمار کیا جانے والا کیتھیڈرل چرچ جمعے کے روز اذان کی آواز سے گونج اٹھا۔ واشنگٹن میں بسنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کیتھیڈرل چرچ میں نماز ِجمعہ کی ادائیگی کے لیے جمع ہوئی۔

کیتھیڈرل چرچ میں جمعے کی نماز کی ادائیگی کو امریکہ میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔

کیتھیڈرل چرچ میں مذہبی عبادات سے متعلق شعبے کی ڈائریکٹر گینا کیمپبل نے اس تاریخی موقعے پر عبادت کے لیے آنے والے تمام لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا نینشل کیتھیڈرل چرچ ’تمام عبادت گزاروں کے لیے عبادت کی ایک جگہ ہے‘۔ انہوں نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں مزید کہا کہ، ’ہمیں اپنے دلوں کو وسیع کرنا چاہیئے، کیونکہ ہم سب ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں‘۔

کیتھیڈرل چرچ میں جمعے کی نماز کا خطبہ امریکہ میں جنوبی افریقہ کے سفیر ابراہیم رسول نے دیا۔ ابراہیم رسول نے اس موقعے پر امریکہ میں مذہبی رواداری بڑھانے کی کاوشوں کی تعریف کی۔ ابراہیم رسول نے اس موقعے پر بطور ِخاص دولت ِاسلامیہ کی جانب سے عیسائیوں کے سفاکانہ قتل کی کارروائیوں کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ ان کارروائیوں کا اسلام سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں۔

ابراہیم رسول کا کہنا تھا کہ، ’اگر ہم نے دولت ِ اسلامیہ کی جانب سے ان سفاک کارروائیوں کو نہ روکا تو کل کو یہ مسجدوں کا رخ بھی کریں گے‘۔

کیتھیڈرل چرچ میں جمعے کی نماز کے تاریخی موقعے پر عیسائی اور مسلمان علماء کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ کیتھیڈرل چرچ میں جمعے کی نماز کے لیے دروازے کھولنے سے بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک مثبت پیغام دنیا بھر میں پھیلے گا جس سے نفرت کو ختم کرنے اور آپسی محبت کو وسعت دینے میں مدد ملی گی۔

کیتھیڈرل چرچ میں نماز ِ جمعہ کے انعقاد کا خیال گذشتہ برس کیتھیڈرل چرچ میں مذہبی عبادات سے متعلق شعبے کی ڈائریکٹر گینا کیمپبل اور امریکہ میں جنوبی افریقہ کے مسلمان سفیر ابراہیم رسول کو اس وقت آیا تھا جب گذشتہ برس نیلسن منڈیلا کیا یاد میں ایک سروس کا اہتمام کیا گیا تھا۔

وی او اے کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ابراہیم رسول نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک دن آئے گا جب سعودی عرب کی مسجدیں بھی عیسائیوں کی عبادت کے لیے کھولی جائیں گی۔ ابراہیم رسول کا کہنا تھا، ’ہمیں رسول ِ کریم ﷺ کی اس سنت کا اتباع کرنا چاہیئے جب انہوں نے مسجد ِ نبوی ﷺ میں عیسائیوں کو اپنے عقائد اور مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی تھی‘۔

دوسری جانب، واشنگٹن کے تاریخی چرچ گردانے جانے والے کیتھیڈرل چرچ میں نماز ِجمعہ نے قدامت پسند عیسائیوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے اور بہت سے عیسائیوں کی جانب سے چرچ میں مسلمانوں کو نماز ِ جمعہ کی اجازت دینے کے عمل پر شدید تنقید کی گئی ہے اور شدید رد ِ عمل سامنے آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG