رسائی کے لنکس

شاید انہیں اپنے آخری وقت آنے کا احساس ہوگیا تھا تبھی انہوں نے ٹائم نہ ہونے کی بات کی ، کسے پتہ تھا کہ واقعی ان کی زندگی انہیں کسی نئے پروجیکٹ پر کام کرنے کا موقع ہی نہیں دے گیْ

نوے کی دھائی کے سنگر اور اس کے بعد نعت خوانی سے بے پناہ شہرت حاصل والے جنید جمشید 3ستمبر 1964 کو کراچی کی مٹی سے اٹھے تھے اور بالآخر جمعرات کی شام اسی مٹی میں جاسوئے۔

سات دسمبر کو چترال سے اسلام آباد کے درمیان حویلیاں کے قریب فضائی حادثے میں انتقال کرجانے والے جنید جمشید نے اپنی زندگی میں ہی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ مر کر کورنگی میں واقع دارالعلوم میں ابدی نیند سونا چاہتے ہیں۔

جنید جمشید کے بڑے بھائی ہمایوں سعید نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ جنید سے ان کی آخری بات ایک پروجیکٹ پر ہوئی تھی ،میں چاہتا تھا کہ جنید اس پروجیکٹ پر کام کریں لیکن انہوں نے فوراً ہی یہ جواب دیا کہ ’یار ٹائم کہاں ہے‘

جنید جمشید کے ایک قریبی رشتے دار نے وی او سے تبادلہ خیال میں کہا کہ شاید انہیں اپنے آخری وقت آنے کا احساس ہوگیا تھا تبھی انہوں نے ٹائم نہ ہونے کی بات کی ، کسے پتہ تھا کہ واقعی ان کی زندگی انہیں کسی نئے پروجیکٹ پر کام کرنے کا موقع ہی نہیں دے گیْ‘‘

دارالعلوم کورنگی میں تدفین کے وقت سینکڑوں لوگ جمع تھے جو کسی نہ کسی طرح مرحوم کی قبر کی ہی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھے اور جوش جذبات میں بھیڑ کو چیر کر قبر کے پاس پاس پہنچنے کے منتظر تھے تاہم مدرسے کے عہدیداروں، پولیس اور رینجرز کا سخت پیرا تھا لیکن لوگوں نے اس کی بھی پروا نہیں کی۔

انتہائی بھیڑ کے سبب کچھ لوگوں کے پیر بھی زخمی ہوئے جبکہ کچھ کو اپنا بھی ہوش نہیں تھا۔ وی او اے کے نمائندوں کو دوران تدفین ایسے متعدد افراد بھی ملے جو دوسرے شہر ہی نہیں دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک ولایت خان اور ان کے کچھ اور ساتھی بھی تھے جو کوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی جنید جمشید کا آخری دیدار کرلیں۔

ولایت خان نے بتایا کہ وہ دیدار کی غرض سے پی این ایس شفا بھی گئے تھے جہاں جنید کی لاش سرد خانے میں ایک رات کے لئے رکھی گئی تھی لیکن وہاں بھی ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔

جنید کی نماز جنازہ میں ان کے صاحبزادے تیمور بھی موجود تھے جو آخری وقت پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے ۔ انہوں نے میڈیا سے بہت ہی جذباتی انداز میں بات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو بطور گلوکار یاد رکھنا درست نہیں ہوگا انہیں جو بھی عزت ملی وہ دینی کاموں کو بڑھ چڑھ کر کرنے سے ملی۔

میڈیا نمائندوں کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ والد صاحب کے مشن کو لے کر آگے بڑھیں گے ۔ وہ نماز نہ چھوڑنے کی ہمیشہ تلقین کیا کرتے تھے اور میں اسی پر عمل کرتارہوں گا۔

جنید جمشید کے قریبی ساتھی اور انہیں گلوکاری سے دینی کاموں کی طرف رغبت دلانے کا سہرا رکھنے والے مولانا طارق جمیل نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور واعظ کیا۔ واعظ کے دوران انہوں نے جنید کو ان الفاظ میں یاد کیا ’ ایسی شان تو کبھی نہیں دیکھی، خوش نصیب ہوتے ہیں جن کے ایسے جنازے ہوتے ہیں۔‘‘

مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ’’ اللہ جسے پسند کرتا ہے اور جس سے محبت کرتا ہے، اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG