رسائی کے لنکس

جوہری مذاکرات 30 جون کے بعد بھی جاری رکھنے کا عندیہ


آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے اس ہوٹل کے باہر صحافیوں کی بھیڑ موجود ہے جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہورہے ہیں

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے اس ہوٹل کے باہر صحافیوں کی بھیڑ موجود ہے جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہورہے ہیں

امریکی محکمۂ خارجہ کی اعلیٰ مشیر میری ہارف نے کہا ہے کہ اگر 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل معاہدے پر اتفاق نہ ہوسکا تو بات چیت کا سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر 30 جون کی ڈیڈلائن تک ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ طے نہ بھی پایا تو تمام فریقین مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جاری مذاکرات میں شریک امریکی محکمۂ خارجہ کی اعلیٰ مشیر میری ہارف نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ اگر 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل معاہدے پر اتفاق نہ ہوسکا تو بات چیت کا سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والی دیگر پانچ عالمی طاقتوں – برطانیہ، روس، چین ،فرانس اور جرمنی - اور ایران کے اعلیٰ حکام ویانا میں موجود ہیں جہاں فریقین کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کو 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئے میری ہارف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ڈیڈلائن سے قبل معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں طویل مدت تک مذاکرات جاری رکھنے کے خواہش مند نہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ اگر ایک بہتر معاہدے پر اتفاق کے لیے مزید چند روز درکار ہوں تو بات چیت جاری رکھنےمیں کوئی حرج نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیڈلائن سے صرف دو روز قبل ایرا نی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کی اپنی حکومت سے مشاورت کے لیے ویانا سے تہران روانگی کے فیصلے پر امریکہ کو کوئی پریشانی نہیں۔

ان کے بقول ویانا میں جاری مذاکرات چوں کہ اپنے آخری مراحل میں ہیں لہذا فریقین کے نمائندوں کا ویانا اور اپنے دارالحکومتوں کے درمیان آنا جانا لگا رہے گا۔

مذاکرات میں شریک سفارت کار بات چیت سے متعلق صحافیوں کو کچھ بتانے سے گریزاں ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ فریقین کے درمیان جن معاملات پر اختلافات برقرار ہیں ان میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا وقت اور ایرانی جوہری تنصیبات کے عالمی معائنے کے دائرۂ کار کا تعین سرِ فہرست ہیں۔

مغربی ممالک ایران سے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اپنی تمام جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس پر ایران کو تحفظات ہیں۔

XS
SM
MD
LG