رسائی کے لنکس

ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم اپنے کم عمر بیٹے کو سکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے والدین پر انحصار کرنے کے بجائے خود پیسے کمائے۔

برطانوی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر ڈیوڈ بیکھم کے صاحبزادے بروکلین بیکھم کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہو ئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔

لیکن کروڑ پتی خاندان کے چشم و چراغ کا یوں کافی شاپ میں ملازمت کرنا، وہ بھی صرف پندرہ برس کی عمر میں، یقیناً اچھنبے کی بات ہے۔

مگر بروکلین کے والدین ڈیوڈ اور وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سخت محنت کرنے کا عادی بنانا چاہتے ہیں۔

فٹ بال کی دنیا میں ایک عرصے تک حکمرانی کرنے والے 39 سالہ ڈیوڈ بیکھم اور ان کی اہلیہ اور مشہور میوزک بینڈ 'اسپائس گرلز' کی سابقہ پرفارمر اور فیشن ڈیزائنر 40 سالہ وکٹوریہ بیکھم کی قسمت پر دولت کی دیوی پوری طرح مہربان ہے۔

بیکھم کے ریٹائرمنٹ لینے کے باوجود گزشتہ برس انھیں دنیا کے امیر ترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

اگرچہ بروکلین کے والدین کا شمار برطانیہ کے دولت مند ترین گھرانوں میں ہوتا ہے جن کی دولت کا تخمینہ 165 ملین پونڈ بتایا جاتا ہے۔ پھر بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم اپنے بیٹے کو سکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے والدین پر انحصار کرنے کے بجائے خود روپے پیسے کی قدر کرنا شروع کریں۔

ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم کے قریبی ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اخبار 'سن' کو بتایا ہے کہ ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم نے ملازمت کرنے کے لیے بروکلین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بروکلین ان دنوں مغربی لندن کی ایک کافی شاپ میں ویک اینڈ پر پارٹ ٹائم ملازمت کررہے ہیں جہاں انھیں ایک گھنٹے کے 2 پونڈ 68 پنس ادا کیے جاتے ہیں۔ لیکن کم عمر ہونے کی وجہ سے ان پر ہفتے میں صرف سات گھنٹے کام کرنے کی پابندی ہے۔

بروکلین کو فٹ بال کا شوق اپنے والد سے ورثے میں ملا ہے جبکہ وہ پچھلے سال ایک پروفیشنل فٹ بال ٹیم کے ساتھ اپنا پہلا معاہدہ بھی کر چکے ہیں۔ دوسری جانب وہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ماڈلنگ کے کیریئر کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔

ڈیوڈ بیکھم کے تین بچے اور ہیں جن میں رومیو 11، کروز 9 اور بیٹی ہارپر کی عمر 2 سال ہے۔

بیکھم اپنے کئی انٹرویوز میں اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ سے اپنے بچوں کی تربیت رہی ہے۔ ان کی اہلیہ اور وہ زندگی میں سخت محنت کرنےکے بعد اس مقام تک پہنچے ہیں اور اسی لیے وہ اپنے بچوں کے لیے مثال بننا چاہتے ہیں تاکہ بچے بھی زندگی میں محنت کے بل بوتے پر سب کچھ حاصل کریں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ بروکلین کی ملازمت کے فیصلے کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ امیر والدین کی دولت پر انحصار کر نے والے بہت سے بچوں کے لیے بروکلین ایک رول ماڈل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

مشرقی لندن کے علاقے لٹن اسٹون میں 2 مئی 1975 میں ڈیوڈ بیکھم نے ایک ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جہاں فٹ بال کو جنون کی حد تک پسند کیا جاتا تھا۔ بس یہیں سے یہ شوق ڈیوڈ کے ساتھ پروان چڑھا۔

ڈیوڈ کے والد ڈیوڈ ایڈورڈ ایک کچن فٹر اور والدہ سینڈرا جارجینا ہیئر ڈریسر کے پیشے سے منسلک تھے۔ لیکن بیکھم کے شوق کو دیکھتے ہوئے انھوں نے بیکھم کو مانچسٹر میں فٹ بال کی تربیت کے لیے بھیجا اور صرف 17 برس کی عمر میں بیکھم نے مانچسٹر یونائیٹیڈ سے انٹرنشنل کیریئر کا آغاز کیا۔

لیکن 1996ء سے بیکھم کی کامیابیوں کا ایک ایسا دور شروع ہوا کہ ان کا نام شائقین فٹ بال کے دل کی دھڑکن بن گیا۔

فٹ بال گراؤنڈ میں ایک بھرپور وقت گزارنے کے بعد ڈیوڈ بیکھم نے بیس برس کے شاندار کیرئیر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 16 مئی 2013ء کو اپنے شاندار کیریئر کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔
XS
SM
MD
LG