رسائی کے لنکس

یہ جونیئر ڈاکٹروں کی پہلی ہڑتال ہے جس میں انھوں نے معمول کی خدمات کے علاوہ ہنگامی دیکھ بھال کے شعبوں سے بھی واک آؤٹ کیا ہے۔

برطانیہ کے این ایچ ایس اسپتالوں کے ہزاروں جونیئر ڈاکٹرز کی طرف سے منگل سے دو روزہ ہڑتال کا آغاز کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر کے اسپتالوں میں معمول کے ہزاروں اپائنمنٹس اور آپریشن منسوخ کردیے گئے ہیں۔

یہ جونیئر ڈاکٹروں کی پہلی ہڑتال ہے جس میں انھوں نے معمول کی خدمات کے علاوہ ہنگامی دیکھ بھال کے شعبوں سے بھی واک آؤٹ کیا ہے۔

انگلینڈ میں کام کرنے والے ہزاروں جونیئر ڈاکٹرز جو برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے رکن ہیں نے منگل کی صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک روزمرہ کی خدمات اور ایمرجنسی دیکھ بھال کا بائیکاٹ کیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس ہڑتال میں 45 ہزار جونیئر ڈاکٹرز حصہ لے رہے ہیں جو بدھ کو ایک بار پھر سے اسی وقت ہڑتال پر چلے جائیں گے۔

یہ این ایچ ایس کی 68 سالہ تاریخ میں جونیئر ڈاکٹروں کی طرف سے کی جانے والی ہمہ گیر ہڑتال ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک لاکھ پچیس ہزار پائنمنٹس اور آپریشن کی تیاری کو منسوخ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جونیئر ڈاکٹرز ان کی تنخواہوں اور کام کی شرائط کو تبدیل کرنے کے ایک نئے معاہدے کے حوالے سے ناخوش ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی طرف سے ہڑتالوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

سیکریٹری صحت جیریمی ہنٹ نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کے نتیجے میں اگر مریض مرتے ہیں تو اس کے ذمہ دار جونیئر ڈاکٹرز ہوں گےجنھوں نے ہنگامی خدمات سے واک آوٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ نیا معاہدہ اگست سے طبی عملے پر عائد کر دیا جائے گا جس کا مقصد سات روزہ این ایچ ایس کی خدمات کو بہتر بنانا ہے۔

ادھر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے وزیر صحت جیریمی ہنٹ کی حمایت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ جونیئر ڈاکٹروں کو ایک اچھا معاہدہ تجویز کیا جارہا ہے اور وہ ہڑتال کرنے میں حق بجانب نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی شعبے کے مریضوں کی دیکھ بھال سے واک آوٹ کرنے کا فیصلہ صحیح نہیں تھا، انھیں ایک اچھا معاہدہ پیش کیا گیا ہےجس سے ڈاکٹروں کی بنیادی تنخواہوں میں 13.5فیصد اضافے کے ساتھ 75 فیصد ڈاکٹروں کو فائدہ پہنچے گا۔

اس سے قبل وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نےجونیئر ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ان ہڑتالوں کی وجہ سے اسپتالوں میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔

دوسری جانب ڈاکٹرز یونین کے رہنماؤں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ این ایچ ایس ٹرسٹ اور اسپتال مریضوں کے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی واقعے کے ذمہ دار ہوں گے اور اس کا الزام طبی عملے پر عائد نہیں کیا جائے گا۔

مجوزہ معاہدے کی شرائط کے حوالے سے حکومت کا موقف ہے کہ اس طرح ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال کی مجموعی صورت حال کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ تاہم جونیئر ڈاکٹرز کو تشویش ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے ان کی تنخواہوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

جونیئر ڈاکٹروں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر صحت معاہدے کی شرائط کے حوالے سے مسائل پر عوامی بحث سے کترا رہے ہیں جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے ان پر نیا معاہدے مسلط کیا جارہا ہے،جس کے نتیجے میں زیادہ جونیئر ڈاکٹروں کو ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران طویل گھنٹے کام کرنا پڑے گا۔

برطانیہ میں تقریباً 50 ہزار سے زائد جونیئر ڈاکٹرز ہیں،جو ملک میں ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد کا ایک تہائی ہے۔ برطانیہ میں جونیئر ڈاکٹرز کی اصطلاح ایسے معالجین کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو اپنی تربیت مکمل کرچکے ہوتے ہیں لیکن ابھی کنسلٹنٹ ڈاکٹر نہیں ہوتے۔

محکمہ صحت کی طرف سے ہڑتال کے دوران ملک بھر کے اسپتالوں کے ایمرجنسی شعبے اور زچگی کے یونٹس میں ہزاروں سینئر ڈاکٹروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG