رسائی کے لنکس

امریکی جیوری نے پادری کواسلامی مرکز کے سامنے احتجاج کی اجازت نہیں دی


امریکی جیوری نے پادری کواسلامی مرکز کے سامنے احتجاج کی اجازت نہیں دی

امریکی جیوری نے پادری کواسلامی مرکز کے سامنے احتجاج کی اجازت نہیں دی

جیوری نے ریاستِ مشی گن میں ڈیئربورن کے مقام پر قائم اسلامک سینٹر فور نارتھ امریکہ کے سامنے احتجاج کرنے کی ٹیری جونز کی درخواست کو مسترد کردیا

ایک امریکی جیوری نےایک عیسائی پادری کو، جس نےگذشتہ ماہ قرآن ِ پاک کےایک نسخے کو نذرِ آتش کیا تھا، ایک بڑے اسلامی مرکز کے سامنے احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی۔

جیوری نے ریاستِ مشی گن میں ڈیئربورن کے مقام پر قائم اسلامک سینٹر فور نارتھ امریکہ کے سامنے احتجاج کرنے کی ٹیری جونز کی درخواست کو مسترد کردیا، جہاں ملک کی مسلمانوں کی سب سے بڑی کمیونٹی آباد ہے۔

جیوری کے پینل نے شہر کے اٹارنی کا ساتھ دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ اِس قسم کے احتجاج سے ’ امن میں خلل پڑنےکا امکان ہے‘۔

شہر کے اٹارنی نےیہ دلیل دیا کہ پادری اور اُن کے حامیوں کی طرف سےاحتجاج سے امن میں بگاڑ آ سکتا ہے اور سکیورٹی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اُنھوں نے ججوں کو بتایا کہ ایسے کسی مظاہرے کی صورت میں اس علاقے میں اندازاً 10000لوگ جوابی احتجاج کے لیے نکل سکتے ہیں جس کے باعث اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنا مشکل کام گا۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ جونز اور اُن کے حامیوں کے پاس بندوقیں ہوں گی، جس کے باعث ، اٹارنی کے بقول، ایک مصیبت کھڑی ہو سکتی ہے۔
جونز نے اپنے مقدمے کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اِس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ مرکز کے سامنے احتجاج سے کوئی خطرناک صورتِ حال پیدا ہوجائے گی اور شہری حکام پر الزام لگایا کہ اُنھیں اُن کےاظہارِ آزادی کے حق کی پرواہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے اِس بات کی تردید کی کہ وہ ہنگامے پر اکسانے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔

گذشتہ ماہ جونز نے مسلمانوں کی مقدس کتاب، قرآنِ پاک کا ایک نسخہ نذرِ آتش کیا تھا جس پر کئی دِنوں تک افغانستان میں ہلاکت خیز احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے تھے۔ وہ فلوریڈا کی ریاست میں ایک چھوٹے سے بنیاد پرست چرچ کا سربرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG