رسائی کے لنکس

افغان حکام نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کابل کے نواح میں ایک ہوٹل پر طالبان کے حملے کو تقریباً 12 گھنٹے بعد پسپا کردیا ہے اور درجنوں یرغمالیوں کو رہا کرا لیا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران دو حملہ آور بھی مارے گئے۔

خودکش حملہ آوروں اور مسلح طالبان نے جمعرات کی رات ہوٹل پر حملہ کرکے خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس حملے کے بعد افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان جمعہ کی صبح تک لڑائی جاری رہی۔

طالبان کے ایک ترجمان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوؤں نے ہوٹل کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ یہ غیر ملکیوں کے زیر استعمال ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں شہریوں اور پولیس کو بھی جانی نقصانات ہوئے ہیں لیکن ان کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ راکٹوں اور جدید اسلحے سے لیس طالبان جنگجوؤں نے قرگاہ جھیل کے کنارے اس ہوٹل پر اُس وقت حملہ کیا جب وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

یہ ہوٹل متمول افغانون، کاروباری شخصیات اور غیر ملکیوں میں خاصا مقبول ہے۔

XS
SM
MD
LG