رسائی کے لنکس

ہلاک ہونے والوں میں بین الاقومی مالیاتی فنڈ 'آئی ایم ایف' کا ایک عہدیدار جب کہ اقوام متحدہ سے منسلک چار افراد بھی شامل ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک لبنانی ریسٹورنٹ پر حملے میں مرنے والوں کی تعداد ہفتہ کو 21 ہوگئی ان میں غیر ملکیوں بھی شامل ہیں۔

جس ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا وہ غیر ملکی شہریوں، کاروباری شخصیات اور سرکاری عہدیداروں میں خاصا مقبول ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں بین الاقومی مالیاتی فنڈ 'آئی ایم ایف' کا ایک عہدیدار جب کہ اقوام متحدہ سے منسلک چار افراد بھی شامل ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق ہلاک ہونے والا اس کا عہدیدار ساٹھ سالہ وابل عبداللہ تھا، جو ایک لبنانی شہری تھا۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس افسوسناک خبر نے سب کو غمزدہ کر دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے منسوب ایک بیان میں حملے کی مذمت اور اس میں عالمی تنظیم کے چار عہدیداروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شہریوں پر اس طرح کے حملے کسی طور قابل قبول نہیں اور یہ فوری طور پر بند ہونے چاہیں۔

حکام کے مطابق جمعہ کی شب ایک خودکش بمبار نے ریسٹورنٹ کے باہر دھماکا کیا جس کے بعد دو مسلح افراد نے عمارت میں داخل ہو کر وہاں موجود افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔ دونوں حملہ آور جوابی کارروائی مارے گئے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ جنرل ظاہر ظہیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ریسٹورنٹ میں داخل ہونے والے حملہ آوروں کو گارڈز نے کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا اور اسی اثنا میں پولیس نے وہاں پہنچ کرکنٹرول سنبھال لیا۔

جس علاقے میں یہ دھماکا ہوا اس کے قریب ہی کئی ممالک کے سفارت خانے اور غیر ملکی تنظیموں کے دفاتر ہیں۔
XS
SM
MD
LG