رسائی کے لنکس

ملک میں جاری بارہ سالہ جنگ کے دوران نیٹو افواج سے مکمل طور پر افغان فورسز کو سلامتی کی ذمہ داریوں کی منتقلی ایک اہم سنگ میل ہے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی افواج نے سلامتی کی ذمہ داریاں باضابطہ طور پر افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دی ہیں۔

دارالحکومت کابل کے مضافات میں منگل کو منعقدہ ایک تقریب میں یہ ذمہ داریاں افغانستان کی فورسز کو سپرد کی گئیں۔

اس موقع پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی موجود تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ مقامی فورسز ملک بھر میں سکیورٹی کی ذمہ داری سنھبال رہی ہیں۔

ملک میں جاری بارہ سالہ جنگ کے دوران نیٹو افواج سے مکمل طور پر افغان فورسز کو سلامتی کی ذمہ داریوں کی منتقلی ایک اہم سنگ میل ہے۔

سکیورٹی کی ذمہ داریوں کی منتقلی افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کی جانب ایک مرحلہ ہے۔

تقریبا ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں پر مشتمل افغان سکیورٹی فورسز کو 2011ء سے مرحلہ وار نیٹو فورسز سے ذمہ داریاں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

ایک ایسے وقت جب نیٹو سے افغان فورسز کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں سونپی جا رہی تھیں اس سے کچھ دیر قبل ہی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک بم دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ بم دھماکے میں قانون ساز محمد محقق کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اس میں محفوظ رہے۔

بین الاقوامی اتحادی افواج سے سلامتی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو منتقل ہونے سے قبل طالبان کی طرف سے دہشت گرد حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
XS
SM
MD
LG