رسائی کے لنکس

کامران بارہ دری؛ دلکش عمارت، تلخ یادیں

  • افضل رحمٰن

کامران بارہ دری؛ دلکش عمارت، تلخ یادیں

کامران بارہ دری؛ دلکش عمارت، تلخ یادیں

بغاوت کے جرم میں مغل بادشاہ جہانگیر کے سامنے اسی بارہ دری میں اس کے بیٹے خسرو کو زنجیروں میں جکڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ جہانگیر نے باغیوں کو سزائیں سناتے ہوئے کہا تھا کہ بادشاہ کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔

لاھور میں دریائے راوی کے پُل سے گزریں تو نیچے دریا کے درمیان ایک چھوٹے سے جزیرے پر مغلوں کے دور میں لاھور میں بننے والی سب سے پہلی عمارت، کامران بارہ دری آج بھی دکھائی دیتی ہے مگر اس کی شکل، محکمہ آثارِقدیمہ کے ماہرین کے کہنے کے مطابق اُس بارہ دری سے کافی مختلف ہے جو پندرہ سو تیس عیسوی میں مغل بادشاہ ہمایوں کے بھائی اور اُس دور کے لاھور کے حکمران مرزا کامران نے بنوائی تھی۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ مرزا کامران نے دریائے راوی کے پار ایک باغ بنوایا تھا جو سولہ سو فٹ چوڑا اور اتنا ہی لمبا تھا اور اس کے درمیان ایک تالاب اور اُس تالاب کے وسط میں یہ بارہ دری تعمیر کروائی تھی۔

محکمہ آثارِقدیمہ کے عہدیدار سلیم الحق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کامران بارہ دری کی درستیابی اور بحالی کا کام اُن کے محکمہ نے نہیں بلکہ لاھور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اُنیس سو اسّی کے عشرے میں کروایا تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایل ۔ ڈی۔ اے کا بنیادی مقصد اس بارہ دری کو سیاحت کے لیے موزوں بنانا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس بارہ دری کو دوبارہ بنواتے تو وہ پہلے اُس ڈیزائن کا کھوج لگاتے جس کے مطابق یہ سولہویں صدی میں بنائی گئی تھی۔ پھر اُس کے ڈیزائن کے مطابق اس کی درستیابی اور بحالی کا کام مکمل ہوتا تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ مغل دور کی یہ یادگار اپنی اصلی شکل میں بحال کی گئی ہے۔

جج محمد لطیف نے تاریخِ لاھور میں لکھا ہے کہ اُنیسویں صدی کے آخر تک دریائے راوی کے منہ زور پانی نے اس بارہ دری کی دیواروں کو بہا لے جانے کی بہت کوشش کی مگر یہ دریا اس مضبوط بارہ دری کے ایک حصے ہی کو نقصان پہنچا سکا تھا۔ اس کے اِردگرد ایک باغ جو مرزا کامران نے بنوایا تھا وہ تاریخِ لاھور کے مصنف کے بقول دریا کی نذر ہوچکا تھا۔

بیسویں صدی میں اس بارہ دری کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی اور اس کی حالت پہلے کی نسبت اور بھی خراب ہوگئی اور اُنیس سو ساٹھ کے عشرے میں تو یہ بارہ دری بالکل ایک کھنڈر کی شکل اختیار کر گئی تھی جہاں لاھور کے لوگ موسمِ سرما میں کشتیوں میں دریا پار کرکے پکنک کے لیے جایا کرتے تھے۔ سلیم الحق کا کہنا تھا غالباً یہی وجہ ہوگی کہ بعد ازاں لاھور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس کو ازسرِنو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

سلیم الحق نے بتایا کہ تاریخ میں کامران بارہ دری کے ساتھ ایک تلخ واقعہ کی یاد وابستہ ہے۔ اسی بارہ دری میں شہنشاہ جہانگیر کے پاس بغاوت کرنے والے اُن کے بیٹے خسرو اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے لایا گیا تھا۔ زنجیروں میں جکڑے بیٹے اور دیگر باغیوں کو جب جہانگیر کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے باغیوں کو سزائے موت کا حکم سُنایا اور اپنے بیٹے خسرو کی آنکھیں نکالنے کا حکم صادر کیا اور ساتھ ہی یہ تاریخی جملہ کہا کہ بادشاہ کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کامران بارہ دری سے قلعہ لاھور تک کے راستے میں تین سو کے قریب خسرو کے ساتھیوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور اُن کے درمیان سے گھسیٹ کر خسرو کو قلعہ لاھور لے جایا گیا اور نابینا کردیا گیا۔ بعد ازاں قلعہ لاھور ہی میں خسرو کی موت واقع ہوئی۔

واضح رہے کہ جہانگیر نے خود بھی اپنے باپ جلال الدین اکبر کے خلاف بغاوت کی تھی اور اس دوران میں جہانگیر کے بڑے بیٹے خسرو کو اکبر کی کافی قربت حاصل ہوگئی تھی اور یہ باور کیا جانے لگا تھا کہ اکبر کے بعد خسرو ہی بادشاہ بنے گا مگر اکبر کی زندگی کے آخری حصے میں جہانگیر اور اکبر کی صلح ہوگئی اور یوں جہانگیر ہی مغل سلطنت کا ولی عہد رہا اور بادشاہ بننے کے لئے اُس کو اپنے ہی بیٹے کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ کامران بارہ دری سےجڑی یہ کہانی تو اب ماضی کا حصہ ہے تاہم لاھور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ بارہ دری اب لاھور کی ثقافت میں شامل ہوچکی ہے۔

لوگ یہاں پکنک منانے آتے ہیں، یہاں ثقافتی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے، اور ٹی وی چینلز دریا کے کنارے واقع اس بارہ دری پر ڈراموں کے مختلف مناظر کی عکس بندی بھی کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں اس بارہ دری کو دریا کی وجہ سے نقصان پہنچا مگر اب اُن کے بقول دریائے راوی میں پانی حد درجہ کم ہوجانے کی وجہ سے بارہ دری کی اس عمارت کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔


سندھ طاس معاہدےکے تحت جن دریاؤں کا پانی بھارت کے حصے میں آیا تھا اُن میں دریائے راوی بھی شامل ہے اور اس دریا کے پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے ہی بھارت اس کا بیشتر پانی اپنے استعمال میں لے آتا ہے۔

XS
SM
MD
LG