رسائی کے لنکس

بہتر برس کے ملزم، فریزیئر گلین کراس پر آج قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں، اُنھیں موت کی سزا ہوسکتی ہے

امریکہ کی وسط مغربی ریاست، کینساس میں یہودی برادری کی دو تنصیبات کے باہر ہلاکت خیز شوٹنگ میں ملوث مشتبہ شخص کو منگل کے دِن عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

بہتر برس کے ملزم، فریزیئر گلین کراس پر آج قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں، اُنھیں موت کی سزا ہوسکتی ہے۔

کراس کو ایک کروڑ ڈالر کے مچکلے کے عوض پولیس تحویل میں رکھا گیا ہے۔ عدالت کے روبرو اُن کی اگلی پیشی 24 اپریل کو ہوگی۔

وفاقی استغاثے کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف نفرت کے الزامات لگائے گئے ہیں، اور اس سلسلے میں، بہت جلد ’گرانڈ جیوری‘ کے سامنے ثبوت پیش کیا جائے گا۔ یہ ثبوت، بذاتِ خود موت کی سزا کا موجب بن سکتا ہے۔

کراس ویتنام جنگ کے ایک سابق فوجی، سفید فاموں کی بالادستی کے دعویدار اور ’کوکلکس کلین‘ کا ایک رکن ہے۔ اتوار کے دِن جب گرفتاری عمل میں لائی جارہی تھی، ملزم نے کیمروں کے سامنے ’نازی‘ نوعیت کا نعرہ بلند کیا۔

ادھر، امریکی اٹارنی جنرل، ایرک ہولڈر نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ شوٹنگ کی کارروائیوں میں سرگرم ملزموں پر ہاتھ ڈالنے کے لیے درکارپولیس عہدے داروں کی تربیت کے حصول کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی رقم کی منظوری دی جائے۔

امریکی محکمہٴانصاف نے کہا ہے کہ ہولڈر نے یہ درخواست کنساس کے واقعے؛ اور دو اپریل کو ٹیکساس میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر ہونے والے شوٹنگ کے واقعات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی ہے۔ فورٹ ہُڈ واقعے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
XS
SM
MD
LG