رسائی کے لنکس

کراچی کی لرزتی عمارتوں کے’ دلیر‘ شہری


کراچی کی لرزتی عمارتوں کے’ دلیر‘ شہری

کراچی کی لرزتی عمارتوں کے’ دلیر‘ شہری

قائد اعظم محمد علی جناح کا شہر کراچی، قدیم ترین اور جدید ترین، دونوں قسم کی عمارتوں کی سرزمین ہے۔ یہاں ایک طرف ملک کا سب سے اونچا اور جدید کمرشل پلازہ زیر تعمیر ہے تو دوسری جانب برطانوی دور حکومت اور ہندووٴں کے دور میں بننے والی عمارات کی بھی بھرمار ہے۔ بعض عمارات ایسی ہیں جو باہر سے پہلی نظر میں کسی جن بھوت کا مسکن لگتی ہیں تو کچھ عمارات ایسی بھی ہیں جن کی معیاد ختم ہوئے بھی برسوں بیت چکے ہیں مگر آج بھی ان میں سینکڑوں مکین آباد ہیں۔

یہ عمارات زلزلہ پروف نہیں، سمندری طوفان کا سامنا تو دور کی بات ہے تیز ترین ہواوٴں کا بھی سامنا کرتے ہوئے کانپنے لگتی ہیں مگر ان میں رہنے والے ہزاروں افراد پھر بھی عمارات خالی کرنے سے انکاری ہیں۔ انہیں اکثر سرکاری اداروں کی طرف سے اس قسم کے نوٹس بھی ملتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں عمارت اپنے تباہ حال اسٹرکچر اور کمزوربنیادوں کی وجہ سے اپنے ہی بوجھ کے سبب کسی بھی لمحے زمین بوس ہوسکتی ہے ۔۔۔مگر اس کے باوجود ان نوٹسز پر کوئی توجہ نہیں دیتا اور معاملہ جوں کا توں رہتا ہے۔

برنس روڈ پرواقع ایک ایسی ہی قدیم عمارت میں پندرہ بیس سال سے آباد مجاہد حسین نے وی او اے کو بتایا کہ انہوں نے جوبلی سنیما کے قریب واقع ایک قدیم عمارت میں آنکھ کھولی تھی۔ وہیں ان کا بچپن، لڑکپن اور جوانی گزری تھی ۔ وہ اپنے والدین ، چار بہنوں اور تین بھائیوں کے ساتھ دو، ڈھائی عشروں تک اسی بلڈنگ میں رہے لیکن شادی کے بعد وہ فلیٹ کم پڑنے لگا تو انہوں نے رہائش کے لئے برنس روڈ کی ایک ایسی قدیم عمارت کا انتخاب کیا جس کی گیلریوں میں لگی گرل ، اس کی ساخت اور پھول پتیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت ہندوانی طرز کی ہے۔ فلیٹ کی گرل پر ہندو مذہب کا مخصوص نشان ”اوم“ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔

اس عمارت کا زینہ چڑھتے ہوئے جس سیڑھی پر قدم رکھو وہ ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جبکہ فلیٹ کے فرش پر قدموں کی چاپ بھی کسی ’دھمال‘ کی طرح سنائی دیتی ہے۔

لیکن مجاہد حسین کا کہنا تھا کہ وہ یا ان کی فیملی کا کوئی ممبر یہاں تک کہ بچے بھی عمارت کے ہلنے سے خوفزدہ نہیں بلکہ وہ اسے ”معمول کی بات“ خیال کرتے ہیں۔ مجاہد حسین نے بتایا کہ چونکہ اس قسم کی تقریباً تمام عمارات پگڑی پر ہونے کی وجہ سے نہایت کم کرائے پر مل جاتی ہیں لہذا ان عمارتوں کو لوگ سالوں تک خالی نہیں کرتے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں اتنے سستے فلیٹ سوائے اس قسم کی قدیم عمارات کے کہیں اور دستیاب نہیں۔ پھر جن علاقوں میں یہ عمارات واقع ہیں وہ سب کے سب نہایت گنجان آباد اور پر رونق ہیں جہاں زینہ اترتے ہی زندگی کی ہر چیز اور ہر سہولت دستیاب ہے۔ مجاہد حسین کا کہنا ہے کہ کراچی کی فوڈ اسٹریٹ اور برنس روڈ جیسا علاقہ چھوڑنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔“

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نامی ادارہ شہر میں موجود تمام نئی اور پرانی عمارتوں کی نگرانی پر مامور ہے ۔ اس ادارے کی ماہر تعمیرانجینئرز پرمشتمل ایک ’ٹیکنکل کمیٹی برائے خطرناک عمارات ‘بھی ہے جوپورے شہر کی تمام مخدوش عمارتوں کو خالی کرنے کے لئے ہر سال تنبیہہ جاری کرتی ہے ، عمارتوں کے تمام رہائشیوں کو نوٹس بھی جاری کرتی ہے لیکن اس وارننگ پر کوئی کان نہیں دھرتا۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ایک عہدیدار فرح ناز نے بتایا کہ خطرناک اور مخدوش قرار دی جانے والی عمارتوں کے رہائشیوں کو ہر سال موسم برسات سے قبل اور ایک مرتبہ سالانہ نوٹس کے طور پر تنبیہ جاری کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اخبارات میں ان عمارتوں کو ان کے ناموں کے ساتھ ساتھ مخدوش قرار دیا جاتا ہے اور باقاعدہ وارننگ دی جاتی ہے کہ یہ عمارات کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔ بعض عمارات زلزلے کا ہلکا سا جھٹکا بھی برداشت نہیں کرسکتیں۔ اس کے باوجود رہائشی ان عمارات کو خالی کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔“

فرح ناز کے مطابق لیاری ٹاوٴن، صدر ٹاوٴن، موسیٰ لین، برنس روڈ ، رتن تلاوٴ، اردو بازار، ایم اے جنا ح روڈ، ٹاور، میٹھا در، کھارا در، کیماڑی، رنچھوڑ لائن، گارڈن ایسٹ ، گارڈن ویسٹ، لیمارکیٹ، فرئیرروڈ، گرومندر، لیاقت آباد، نیو چالی، سولجر بازار، میری ویدر روڈ، چاکی واڑہ، حاجی کیمپ، شومارکیٹ ، پاکستان کوارٹرز اور نیپئر روڈ سمیت بے شمار علاقے ایسے ہیں جہاں سینکڑوں عمارتوں میں ہزاروں لوگ آباد ہیں ۔۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارے لوگ اپنا انجام جانتے ہیں۔۔۔ اور پھر بھی بے خوف ہیں۔

XS
SM
MD
LG