رسائی کے لنکس

صرف روا ں مہینے اکتوبر کی بات کی جائے تو ان 17 دنوں میں 133 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ،جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سمیت سرکاری اداروں کے اہلکار، وکیل اور ڈاکٹربھی شامل ہیں

کراچی میں رواں سال کے دوران 9 ماہ میں 1800 افراد قتل ہوئے۔ صرف رواں مہینے اکتوبر کی بات کی جائے تو اِن 17 دنوں میں 133 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سمیت سرکاری اداروں کے اہلکار، وکیل اور ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

بدھ کے روز بھی کراچی میں مختلف علاقوں میں فائرنگ سے 4 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

شادمان ٹاوٴن کے قریب کے ایم سی کے انسپکٹر شفقت کو قتل کردیا گیا۔ قصبہ موڑ پر بھی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ گلشن اقبال اور ناگن چورنگی سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنھیں بے دردی سے تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ منگھوپير کے علاقے میں بس پر فائرنگ سے 3 افراد شدید زخمی ہوگئے۔

کراچی میں زیادہ تر قتل کے واقعات ذاتی دشمنی اور انتقامانہ کاروائی کے باعث ہوتے ہیں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، زاتی چپقلش اور لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ شہریوں کے لئے تشویش کا باعث ہے، شہری ان قتل و عام سے ذہنی طور پر ڈر اور خوف میں مبتلا رہتے ہیں، شہری جائیں تو کہاں جائیں ۔

شہر کی امن و امان کی خراب صورتحال سیکیورٹی اداروں کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شہر میں ناجائز اسلحہ کی موجودگی بھی شہر میں ان مجرمانہ کاروائیوں میں اضافے کا سبب ہے جسکے خلاف کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیاجارہا۔

اتحادی جماعتوں نے بھی دہشتگردی کو روکنے کے لئے بے شمار دعوے کئے مگر سب کے سب بےسود رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردی اور قتل عام کے خلاف حکومتی اداروں کو سنجیدگی سے ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔
XS
SM
MD
LG