رسائی کے لنکس

پاکستانی سیاست میں کرکٹ کا نمایاں ہوتا رنگ


پاکستانی سیاست میں کرکٹ کا نمایاں ہوتا رنگ

پاکستانی سیاست میں کرکٹ کا نمایاں ہوتا رنگ

پاکستانی سیاست میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی اینٹری کے بعدکرکٹ کا رنگ ایسا نمایاں ہو اہے کہ آج سیاسی بحث مباحثے میں بھی ’کرکٹ کی زبان ‘ بولی جارہی ہے ۔ابھی تک ایک بال پر دو کٹوں سے متعلق تبادلہ خیال ہو رہا تھا کہ نواز شریف نے کراچی میں عمران خان کو فائن لیگ کی باؤنڈر ی یاددلادی جس پر انہیں کلب کرکٹرہونے کا طعنہ سننا پڑا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ پنجاب کے بعد سندھ کی پچ پر عمران کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستانی سیاست میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی اینٹری کے بعدکرکٹ کا رنگ ایسا نمایاں ہو اہے کہ آج سیاسی بحث مباحثے میں بھی ’کرکٹ کی زبان ‘ بولی جارہی ہے ۔ابھی تک ایک بال پر دو کٹوں سے متعلق تبادلہ خیال ہو رہا تھا کہ نواز شریف نے کراچی میں عمران خان کو فائن لیگ کی باؤنڈر ی یاددلادی جس پر انہیں کلب کرکٹرہونے کا طعنہ سننا پڑا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ پنجاب کے بعد سندھ کی پچ پر عمران کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سیاست کو کرکٹ کی طرز پر کھیلنے کی ابتدا تو کافی پرانی ہے تاہم مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان جاری’ ٹیسٹ ‘میں تیزی آناپنجاب میں عمران خان کے جلسوں کے بعد شروع ہوئی جن میں وہ ہمیشہ سے ایک بال پر صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف کی وکٹیں لے کر انہیں پولین بھیجنے کا دعویٰ کرتے رہے لیکن مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار نے 20 اکتوبر فیصل آباد میں اس دعوے کو کرکٹ رولز کے خلاف قرار دیا اور موقف اختیا رکیا کہ ایک گیند پر دو وکٹیں نہیں لی جا سکتیں ۔

دونوں موقف سامنے آنے کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں ایک گیند پر دو وکٹیں لینے کی بحث زور پکڑ گئی جسے دیکھتے ہوئے 25 نومبر کو چکوال میں عمران خان نے بتایا کہ اگر آخری کھلاڑی آؤٹ ہو جائے تو دوسرا خود ہی آؤٹ ہو جاتا ہے ، اس طرح ایک بال پر دو وکٹیں گرائی جاسکتی ہیں۔ لیکن 27 نومبر کو راولپنڈی میں چوہدری نثار نے یہ دلیل دی کہ اگر آخری یعنی دسواں کھلاڑی آؤٹ ہو جائے تو گیارہوا ں کھلاڑی ناٹ آؤٹ رہتاہے ۔

ایک گیند پر دو وکٹوں کی بات جاری ہی تھی کہ انیس دسمبر کو مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے بھی عمران خان کی بالنگ کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اور کراچی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران کو یاد دلایا کہ وہ ان کی ان سوئنگ پر فائن لیگ کا ایسا چوکا لگایا کرتے کہ میدان کی گھاس ہی اڑجاتی تھی،ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ تحریک انصاف سے دس ، دس اوورز کا میچ کھیل ہی لیا جائے۔

منگل بیس دسمبر کو قصور کے جلسہ عام میں عمران خان نے ایسے کسی بھی چوکے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف کلب کرکٹر ہیں جب کہ میں ٹیسٹ کرکٹر ہوں ، نواز شریف صرف خوابو ں میں چوکے، چھکے لگا سکتے ہیں۔نواز شریف اپنے ساتھ امپائر کھڑے کرتے تھے لیکن اب کوئی جنرل جیلانی کلب انہیں کرکٹر نہیں بنا سکتا ۔

کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ عمران خان نے پنجاب کی سرزمین پر ن لیگ سے زبردست مقابلہ کیا ہے لیکن ان کا اصل مقابلہ اب سندھ میں ہو گا جہاں کی پچ اور آؤٹ فیلڈ بظاہر ان کے لئے زیادہ ساز گار دکھائی نہیں دے رہی ۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی خیال رکھنا ہو گا کہ یہاں ق لیگ اور ن لیگ جیسی صورتحال نہیں جہاں دونوں کے اختلافات پر وہ جم کر کھیلے بلکہ اس پچ پر پیپلزپارٹی کی بالنگ اور ایم کیو ایم کی مضبوط فیلڈنگ کا سامنا ہو گا ۔ اس میدان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ذرا سی غفلت سے ایسا طوفان برپا ہوتا ہے کہ خزان میں پتوں کی طرح وکٹیں جھڑنے لگتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG