رسائی کے لنکس

کراچی ایئرپورٹ حملہ، لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کا دکھ


کراچی ایئرپورٹ پر حملے کےبعد کارگو کمپنی کے سات لاپتہ ملازمین کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

کراچی ایئرپورٹ پر حملے کےبعد کارگو کمپنی کے سات لاپتہ ملازمین کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

کچھ گھنٹوں پہلے تک اندر سے "بچاؤ! بچاؤ!" کی آوازیں آرہی تھیں مگر آگ نہیں بجھائی جاسکی، سب کچھ جل گیا ہے: کارگو کمپنی کے لاپتہ ملازمین کے اہلِ خانہ کی 'وی او اے' سے گفتگو

"میرا بھائی کارگو کمپنی میں لوڈنگ کا کام کرتا ہے۔ کل ایئرپورٹ ہر ہونے والے حملے میں وہ کمپنی کے اندر کولڈ اسٹوریج میں چھپ گیا تھا۔ جبکہ کل رات ہی اس نے گھر فون کرکے اطلاع دی کہ مجھے فون نہیں کرنا، کیونکہ فون کی آواز سے باہر دہشتگردوں کو معلوم ہوجائےگا کہ اندر کچھ لوگ موجود ہیں۔۔۔۔"

ایئرپورٹ پر غیر ملکی کمپنی میں کام کرنے والے ملازم کی بہن نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ ہم صبح چھ بجے سے یہاں بیٹھے ہیں، کوئی کچھ نہیں بتارہا ہے کہ میرا بھائی کہاں ہے؟ زندہ بھی ہے یا مرگیا۔

ان کے بقول، "کولڈ اسٹوریج میں آگ لگ جانے کے بعد وہ جگہ عام انسان کے جانے کے قابل نہیں رہی ہے، مگر ریسکیو ادارے بھی تعاون نہیں کررہے ہیں۔ کچھ گھنٹوں پہلے تک اندر سے بچاؤ! بچاؤ! کی آوازیں آرہی تھیں مگر آگ نہیں بجھ سکی ہے۔ سب کچھ جل گیا ہے۔ شاید بھائی ابھی تک زندہ ہو۔ ہمیں معلوم ہوجائے تو دل کو تسلی ہوجائے۔"

اسی طرح ایک اور لاپتہ ملازم سیف الرحمان کے اہلخانہ بھی جائے حادثہ پر موجود تھے جنھوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ حکومت کے عہدیدار یہاں سے گزرے ہیں مگر انھوں نے ہم سے دو گھڑی بھی بات نہیں کی۔ انھیں ہمارے گھر والوں کا احساس نہیں جو آگ میں پھنسے ہوئے ہیں انھیں باہر کیوں نہیں لایاجارہا۔

ایک اور لاپتہ ملازم کے دو بھائی بھی کارگو کمپنی کے آفس کے باہرآنکھوں میں آنسو اور کئی سوال لئے بیٹھے تھے۔ ان کے احساسات بھی دوسروں سے مختلف نہ تھے۔

انہوں نے 'وی او اے' سے گفتگو میں بتایا کہ، "میرے بھائی کو یہاں کام کئے ہوئے ڈیڑھ برس ہی گزرا ہے کہ اسے اس سانحے نے آلیا۔ ہمارا کل بھائی سے رابطہ ہوا تھا پھر بعد میں کچھ نیں پتا چلا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ کولڈ اسٹوریج میں چھپ کر جان بچانے کی کوشش کر رہاتھا۔ اب صبح سے یہاں بیٹھے ہیں مگر کوئی کچھ نہیں بتارہا۔"

کراچی ایئرپورٹ پرگزشتہ رات ہونے والے حملے کے بعد ایئرپورٹ پر موجود غیر ملکی کارگو کمپنی کے سات ملازمین تاحال لاپتہ ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ایئرپورٹ حملے کے باعث سات افراد کارگو کمپنی کے گودام میں پناہ لینے کیلئے چھپے تھے تاہم دھماکوں کے بعد آگ لگ جانے کے باعث وہ وہاں سے باہر نہ نکل سکے۔

لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے کراچی ایئرپورٹ پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ ریسکیو اہلکار جائے حادثہ پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں جبکہ سول ایوی ایشن کے ملازم بھی ریسکیو کاموں میں رضاکارانہ طور پر شریک ہیں۔

کارگو کمہنی کے باہر آگ کے باعث سخت بدبو اٹھ رہی ہے اور 27 گھنٹے گزرجانے کے بعد بھی اس آگ پر قابو نہیں پایاجاسکا ہے۔ اندر مکمل تاریکی اور دھواں بھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کمپنی کے گودام کی دیواروں کو منہدم کرکے اندر داخلے کا راستہ بنایا جارہا ہے۔

فلائٹ شیڈول نارمل ہونے میں 24 گھنٹے کا وقت درکار
'وائس آف امریکہ' کو سول ایوی ایشن کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ ایئرپورٹ پر گزشتہ روز ہونے والے حملے سے فلائٹ شیڈول سخت متاثر ہوا ہے جسے نارمل ہونے میں کم از کم 24 گھنٹے کا وقت لگے گا۔ افسر نے بتایا کہ پیر کی تمام فلائٹس کے شیڈول بھی متاثر ہیں۔

کئی مسافروں نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں دوپہر کی فلائٹ لینی تھی مگر حملے کے باعث فلائٹ اب رات گئے تک آئے گی۔ ایئرپورٹ پر کئی مسافر سخت پریشانی کے عالم میں معلوماتی افسران سے فلائٹس کے شیڈول کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے دکھائی دیے۔
XS
SM
MD
LG