رسائی کے لنکس

کراچی ایئرپورٹ دہشت گرد حملہ، 10 افراد ہلاک


فائل

فائل

’دو دہشت گرد مارے گئے ہیں، ایک نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی جس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا، جب کہ باقی حملہ آوروں کو جلد از جلد پکڑ لیا جائے گا‘: وزیر اعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی ایئر پورٹ کے ٹرمینل ون پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ملوث دو حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا ہے، ایک، جس نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئے تھی اپنے آپ کو دھماکے سےاڑا دیا، جب کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے، اور باقی حملہ آوروں کو جلد از جلد پکڑ لیا جائے گا۔

اُنھوں نے یہ بات اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’سکیورٹی فورسز نے ایئرپورٹ کے ایک حصے کو کلیئر کر دیا ہے‘۔

ادھر، رینجرز ذرائع نے بتایا ہے کہ 10 افراد، جن میں سے پانچ فورسز کے اہل کار جب کہ دو کا تعلق عملے سے تھا، ہلاک ہوئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ’نقاب پوش مسلح حملہ آوروں کے قبضے سے جدید اسلحہ، راکٹ لائنچرز اور خودکش جیکٹ برآمد ہوئے‘۔

ادھر جناح ایئرپورٹ پر شدید فائرنگ اور دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق،’10 سے 15 مسلح افراد دیوار گِرا کر ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوئے تھے‘۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد، الطاف حسین نے لندن سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے، کراچی ہوائی اڈے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اِس سے قبل، وزیر اعظم نواز شریف نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر کو ہدایات جاری کیں؛ اور کہا کہ ’تمام مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور ایئرپورٹ کے اثاثوں کی ہر ممکن حفاظت کی جائے‘۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں پر ’جلد از جلد قابو پایا جائے‘۔

ادھر، وزیر دفاع خواجہ آصف نے واقع کی مذمت کرتے ہوئے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔

کراچی ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون پر دہشت گردوں نے رات گئے دھاوا بول دیا تھا۔ اِن مسلح نقاب پوش حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور دستی بم استعمال کیے، جن کے نتیجے میں پارکنگ علاقے میں کھڑے تین طیاروں کو آگ لگ گئی، جن میں سے ایک غیر ملکی کارگو طیارہ بتایا جاتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ’اِس وقت، یہ دہشت گرد ایئرپورٹ کے ہینگر اور اطراف کے مقامات پر موجود ہیں‘۔ بتایا گیا ہے کہ فورسز سے جھڑپ میں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

رینجرز کے ترجمان کے مطابق، ’سیکورٹی اہل کاروں اور حملہ آوروں کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں دو حملہ آور مارے گئے، جبکہ ایک دہشتگرد نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ مزید یہ کہ دو زخمی مسلح افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ پولیس آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ علی الصبح، پاکستان فوج کے تازہ دم دستے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائی میں شامل ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل، پاکستان فوج، رینجرز اور پولیس نے رات گئے ایئرپورٹ پر ’پوزیشنیں سنبھال لی تھی‘۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلح حملہ آوروں کے خلاف کارروائی جاری ہے، جب کہ ہوائی اڈے کے مختلف حصوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں؛ اور یہ کہ وقفے وقفے سے دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔

اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق، ہوائی اڈے پر ’ہائی الرٹ‘ کا اعلان کرنے کے بعد
ایئرپورٹ پر تمام پروازوںٕ کو روک دیا گیا، جب کہ ہوائی اڈے جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں۔ ایک اور اطلاع کے مطابق، پشاور سے آنے والی ایک ملکی پرواز کو نوابشاہ ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا ہے۔ نوابشاہ کے علاوہ سکھر ایئر پورٹ پر ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

’سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ کے ترجمان کے مطابق، ’کراچی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بند کر دیا گیا ہے‘۔ ذرائع کے مطابق، حملے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ جناح اسپتال اور سول اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ حملے میں ’تین چار دستی بم پھینکے گئے‘، جن کے نتیجے میں جہازوں کی پارکنگ اسپیس میں آگ لگی ہوئی ہے۔

وزیر اعلی سندھ, سید قائم علی شاہ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کراچی ایئرپورٹ پہنچ چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے خلاف آپریشن میں پاک فوج کے 1500 کمانڈوز شامل ہیں۔ دوسری رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے ایئرپورٹ میں داخل ہوئے تھے۔
XS
SM
MD
LG