رسائی کے لنکس

عوامی نیشنل پارٹی کا کراچی میں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ


سینیٹر حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ سول حکومت کے حکم پر فوج کو تعینات کیا جائے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال اور حالیہ دنوں میں ہونے والی ہلاکتیں جمعہ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی موضوع بحث رہیں۔

حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی نے سینیٹ کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور بعد میں اس کے قائدین نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری کے لیے ضروری ہے وہاں فوج کو تعینات کیا جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما سینیڑ حاجی عدیل نے کہا کہ آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ صوبائی حکومت فوج کو طلب کر سکتی ہے۔

’’سول حکومت کے حکم پر فوج آئے اور صرف کراچی میں آئے، ہم پورے پاکستان میں نہیں کہہ رہے ہیں کہ فوج ٹیک اوور کر لے۔‘‘

کراچی میں جمعرات کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں جامعہ بنوریہ کے مفتی عبد المجید دین پوری اور دو دیگر علما سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبائی حکومت نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ کے دیگر اضلاع سے پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری کراچی بلوا کر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن کہہ چکے ہیں کہ وزیراعلٰی قائم علی شاہ نے رینجرز اور پولیس کو حساس علاقوں میں ٹارگٹڈ ایکشن کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی اضافی نفری کی تعیناتی شروع کر دی گئی ہے۔

اُدھر ممکنہ دہشت گردانہ کارروائی کے پیش نظر کراچی میں جمعہ کی دوپہر بارہ بجے سے سہ پہر تین بجے تک موبائل فون سروس معطل کر دی گئی تھی۔
XS
SM
MD
LG