رسائی کے لنکس

کراچی جہاں ہر روز پرتشدد واقعات اور متعدد ہلاکتیں ، سڑکوں پر احتجاج اور کاروباری سرگرمیوں کا متاثر ہونا معمول بن گیا ہے وہاں اس شہر کے مرکز میں واقع آرٹس کونسل میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے باقاعدگی سے انعقاد اور سیکھنے اور سکھانے والوں کی تعداد کو دیکھ کر یہ شہر اتنا ہی پرامن معلوم ہوتا ہے جتنا اس مرکز کے باہر پر تشدد ہے۔

خالد مقبول کراچی آرٹس کونسل میں میوزک اکیڈمی کے نگران ہیں ۔ وہ کہتے ہیں شہر میں امن و امان کی صورتِ حال جیسی بھی ہو آرٹس کونسل میں ادبی و ثقافتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں ۔ ” شہر کے حالات کتنے ہی خراب ہوں ہم نے ہمیشہ یہاں احتجاجاً پروگرام ایک چیلنج سمجھ کر جاری رکھا ۔ ہاں کبھی اموات زیادہ ہوئیں تو احترامً ادارے کو بند رکھا جاتا ہے ورنہ بم دھماکا ہو یا جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مقابلہ فن و ثقافت سے ہی ہوسکتا ہے۔ “

اس میوز ک اکیڈمی میں کلاسیکی موسیقی کے ساتھ موسیقی کے آلات سکھانے کا بھی انتظام ہے اور یہاں سیکھنے والوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد برابر ہے ۔ استاد محمود علی خان کا تعلق گوالیار گھرانے سے ہے اور وہ یہاں کلاسیکی موسیقی سکھا رہے ہیں ۔ اس سوال پر کہ موسیقی فرد کی کس طرح سے ذہنی تربیت کرتی ہے وہ بتاتے ہیں۔

” فطرت موسیقی ہے ۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے فطرت پر ؟ یہ آسمان ، دریا ، جھرنے آبشاریں یہ سب کیا ہیں یہ موسیقی ہے ، سات آسمان ہیں اور سر بھی سات۔ اس کا فطرت سے گہرا تعلق ہے۔ موسیقی روح پر اثر کرتی ہے جسم پر نہیں اور جب کسی چیز کا رو ح پراثر ہوگا تو جسمانی طور پر بھی ہر چیز پر ہوگا۔ ‘‘

وہ کہتے ہیں کہ معاشرے سے اضطراب کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اچھی موسیقی کو عام کیا جائے ۔’’میں تو میڈیا سے یہ کہہ رہا ہوں آپ اچھی موسیقی عام کریں تو آپ دیکھیں یہ معاشرے میں یہ قتل و غارت گری یہ بربریت سب ختم ہوجائے گی۔ ایک اچھا فنکار بڑا حساس ہوتا ہے وہ اپنے سائے سے بھی ڈرتا ہے ۔ کسی اچھے موسیقار کو آپ نے نہیں دیکھا ہوگا کہ اس نے چور ی کی ہے یا اس نے ڈاکہ ڈالا ہے اس نے قتل کیا ہے ۔ جتنے اچھے موسیقار ہیں انھوں نے اچھے کام کیے ہے موسیقی کوعام کریں سارے معاشرے کا فرسٹیشن ختم ہوجائے گا یہ میرا دعویٰ ہے۔‘‘

یہاں سیکھنے والوں میں مصطفیٰ بھی شامل ہیں ۔ وہ انٹرمیڈیٹ کے طالب علم ہیں اور ان کا تعلق کراچی کے سب سے زیادہ پرتشدد علاقوں میں سے ایک ’لیاری‘ سے ہے۔ وہ کہتے ہیں’’ میں ایک اچھا انسان بننا چاہتا ہوں اور ایک اچھا سنگر بھی۔ اگر ہمیں پروموٹ کیا جائے تو پاکستان کے لیے اپنے ملک کے لیے بہت زیادہ نام پیدا کرسکتے ہیں۔‘‘

فنون لطیفہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ موسیقی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے معاشرے کو ایک لڑی میں پرو کر رکھتی ہے کیوں کہ یہ مذہب ، فرقہ بندیوں اور سرحدوں سے ماوراء ہے اور اپنے سیکھنے والوں کو بھی یہی درس دیتی ہے۔

XS
SM
MD
LG