رسائی کے لنکس

کراچی : یوم عاشور کے موقع پر حفاظتی اقدامات مزید سخت


کراچی : یوم عاشور کے موقع پر حفاظتی اقدامات مزید سخت

کراچی : یوم عاشور کے موقع پر حفاظتی اقدامات مزید سخت

کراچی میں منگل کی صبح ہونے والے ایک دھماکے کے بعد نشتر پارک سے نکلنے والے یومِ عاشور کے مرکزی جلوس کی حفاظت مزید سخت کردی گئی۔

صوبائی پولیس حکام کے مطابق جلوس کی نگرانی کے لیے سادہ لباس میں اہل کاروں سمیت پولیس و رینجرز کی 30 ہزار کے قریب نفری تعینات کی گئی تھی جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی اپنے فرائض انجام دیتا رہا۔ جلوس کے مرکزی راستوں پر موجود عمارتوں پر بھی رینجرز و پولیس کے اہل کار تعینات رہے جب کہ فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

اس سے قبل شہر میں ڈیفنس فیز ون کے قریب کالا پل پر منگل کی صبح دھماکا خیز مواد پھٹنے سے چار افراد زخمی ہو گئے تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تحقیقاتی اداروں نے بتایا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا بم تین کلو گرام وزنی تھا جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑا یا گیا۔ دھماکے کے بعد کالا پل کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ۔

صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان کا کہنا ہے کہ دھماکا مرکزی جلوس سے توجہ ہٹانے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیا گیا تھا تاہم رینجرز اور پولیس چوکس ہیں۔ وہ منگل کو جلوس کے مرکزی راستوں پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔

ادھر کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس کھارادر میں واقع اپنی آخری منزل حسینہ ایرانیاں کی طرف رواں ہے۔ نشتر پارک سے صبح نو بجے کے قریب نکلنے والے اس جلوس کی حفاظت کے لیے روایتی راستوں پر پہلے ہی خفیہ کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے جب کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے شہر میں یومِ عاشور پر دہشت گرد حملے کا امکان ظاہر کیے جانے کے بعد ماتمی جلوس کے 500 میٹر احاطہ میں کسی بھی سواری کو داخلے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے منگل کی شام ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ عاشورہ کے جلوسوں کی نگرانی کے لیے موثر اور بھر پور انتظامات کے باعث ملک بھر میں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ کوئٹہ سمیت بعض شہروں میں یوم عاشور کے موقع پر موبائل فون کی سروسز بھی معطل کر دی گئی تھیں کیوں کہ اس بات کا خدشہ تھا کہ موبائل فون کو استعمال کر کے شدت پسند ماتمی جلوسوں کو نشانہ بنا سکتے تھے۔

کراچی میں محرم الحرام کا مرکزی جلوس جن روایتی راستوں سے گزرتا ہے وہاں ملک کے بڑے اور اہم تجارتی مراکز ہیں۔ دو سال قبل دس محرم کو عاشورہ کے مرکزی جلوس کو بم دھماکوں سے نشانہ بنانے اور پھر اس کے نتیجہ میں ہونے والے ہولناک فسادات میں سینکڑوں دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا تھا۔

تاہم رواں سال ان واقعات سے بچنے کے لیے صوبائی حکومت نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملہ کی نگرانی میں نمائش سے لے کر ٹاور تک تمام دکانوں اور راستوں کو ہفتہ کو ہی سیل کر دیا تھا ۔ جب کہ شہر کے حساس علاقوں میں پولیس و رینجرز کا گشت بڑھانے کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ رابطے بھی کیے گئے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG