رسائی کے لنکس

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار


کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

پاکستان کے تقریباََ ایک کروڑاسی لاکھ آبادی والے شہر میں خونریز فسادات کا پس منظر جاننے اوراس کے حقائق پر روشنی ڈالنے کے لیے ملک کے نامور محقق پروفیسر مہدی حسن کے ساتھ ایک تفصیلی گفتگو پیش خدمت ہے۔

پروفیسر مہدی حسن

پروفیسر مہدی حسن

سوال :اقتصادی ترقی بھی ہے اور تعلیم بھی لیکن اس کے باوجود تشدد کی جس لہر نے کراچی کو ان دنوں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے نوجوان نسل بظاہر اس کے حقائق سے پوری طرح واقف نہیں؟

پروفیسر مہدی حسین :1947 میں تقسیم ہند کے بعد اُردو زبان بولنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھارت سے ہجرت کر کے کراچی آئی تھی کیونکہ پاکستان میں تو پنجاب کی تینوں سرحدیں ایک سال بعد بند ہوگئی تھیں لیکن سندھ میں کھوکھرا پار کی سرحد 1956ء تک کھلی رہی ۔اس لیے زیادہ تر مہاجرین ہندوستان سے اس علاقے میں بہتر مواقع کی تلاش میں ہجرت کرکے آئے جن کا تعلق زیادہ تربہار، یوپی اور حیدرآباد سے تھا۔ کراچی اُس وقت پاکستان کا دارالحکومت تھا، یہاں ملازمتوں کے مواقع زیادہ تھے کیونکہ مغربی پاکستان کی بڑی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے کاروباری مواقع بھی زیادہ تھے۔ اُس وقت افسر شاہی یا بیوروکریسی میں بھی اکثریت اُردو زبان بولنے والوں کی تھی اس لیے اُنھوں نے مہاجرین کی سرپرستی بھی کی اور ان کا خیال بھی رکھا جس سے کراچی میں اُن کے اثرو رسوخ کو فروغ ملا۔ سقوط ڈھاکا کے بعد جب پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو صوبے میں سندھی اور اُردو بولنے والوں کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ 1973ء میں ایک بڑا فساد بھی ہوا جس کی بنیاد لسانی تھی اور یوں اس روایت کا آغاز ہوا۔ لیکن بعد میں جو انتخابات ہوتے رہے اس میں یہ ثابت ہوا کہ سوائے ایک دو حلقوں کے کراچی پر ایم کیو ایم جو پہلے مہاجر قومی موومنٹ تھی پھر متحدہ قومی موومنٹ کہلانے لگی کا کنٹرول ہے اور سندھی اثرو رسوخ بہت کم ہوگیا ہے۔

سوال: لیکن عمومی تاثرتو یہ تھا کہ شہر میں جماعت اسلامی سب سے زیاد ہ اثرو رسوخ رکھنے والی جماعت تھی؟

پروفیسر مہدی حسن :اُردو بولنے والی آبادی کی اکثریت 1981ء تک جماعت اسلامی کی حامی تھی لیکن جب جماعت اسلامی نے جنرل ضیاالحق سے اختلاف کے بعد حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو پھر مہاجرقومی موومنٹ بنی ۔ اُن کا سارا زور اُردو زبان اور مہاجر ہونے پر تھا جس پر بہت سے اعتراضات بھی کیے گئے اور حسب توقع ایم کیوایم اور جماعت اسلامی دو بڑی حریف قوتوں کی صورت میں اُبھر کر سامنے آگئیں جو شہر میں سیاسی جھگڑے کی بنیاد بنی۔ تاہم بہتر روزگار کی تلاش میں ملک کے شمال مغربی حصوں سے کراچی کا رخ کرنے والے پٹھانوں کی آبادی میں بھی آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا جس نے شہر کے لسانی نقشے کو مزید پیچیدہ کردیا۔ اس وقت پختون آبادی کراچی میں دوسری بڑی قوت بن چکی ہے۔ وہ ٹرانسپورٹ، تعمیراتی اور مزدوری سے متعلق شعبوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیا کا سب سے بڑا پشتو زبان بولنے والا شہر کراچی ہے۔

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

سوال :ماضی قریب میں تو کراچی کی سیاست میں پختونوں کی کوئی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ جب بھی بات ہوئی تو مقابلہ ایم کیوایم اور پی پی پی کے درمیان رہا؟

پروفیسر مہدی حسن:یہ بات درست ہے مگر 2008ء کے انتخابات میں پہلی بار پختون اثرورسوخ نظر آیا اور انھیں کچھ نشستیں بھی ملیں۔ میرے خیال میں اس کی وجہ ایم کیو ایم اور پختون آبادی کی دشمنی تھی۔ چونکہ اب یہ مسئلہ درپیش ہے کہ پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم یہ تینوں اپنا اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہیں اس لیے وہاں لاقانونیت کی سی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کا فائدہ کراچی میں پہلے سے موجود جرائم پیشہ عناصر، لینڈ مافیا،، اسمگلرز اور دیگر گروہ بھی اٹھا رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ صورت حال بظاہر حکومت کے قابو میں نہیں رہی ہے۔

سوال: لیکن عمومی تاثر تو یہ ہے کہ شہر میں امن وامان قائم کرنے کی کنجی بھی دراصل سیاسی جماعتوں کے پاس ہی ہے؟

پروفیسر مہدی حسن:میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ کراچی کو ایم کیو ایم کنٹرول کرتی ہے اور جب تک ایم کیو ایم یہ فیصلہ نہیں کرے گی کہ امن قائم ہونا چاہیے وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جو ذوالفقار مرزا کے بیان کے بعد فساد برپا ہوا جس میں میڈیا نے بہت منفی کردار ادا کیا اور انھوں نے کوئی تین دنوں میں 92مرتبہ ان کے اس بیان کو جو نہایت قابل اعتراض تھا تمام ٹی وی چینلز نے تسلسل کے ساتھ نشر کیا۔ دوسری بات یہ کہ جب یہ فسادات دو تین دن جاری رہے اور سو کے قریب لوگ ہلاک ہوئے پچاس کے قریب بسیں اور گاڑیاں جلائی گئیں، دکانیں لوٹی گئیں اس کے بعد جب الطاف حسین نے لوگوں سے یہ کہا کہ بس کریں اور گھروں کو جائیں تو بقول ان کی، ایم کیو ایم کی ایک خاتون ایم این اے نے بڑے فخر سے ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ الطاف حسین کی ایک کال پر کراچی پرامن ہوگیا۔ بہت اچھی بات ہے خراج تحسین پیش کرنا چاہیے ان کے نظم وضبط کو لیکن اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ایم کیوایم کے ایک لیڈر کی کال پر کراچی پرامن ہوگیا تو کون لوگ تھے وہ امن کو خراب کرنے والے۔؟

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

سوال: آپ دانشور طبقے کے خیال میں مسئلے کا حل کیا ہے؟

پروفیسر مہدی حسن : جب تک احتساب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر نہیں ہوگا یہ صورت حال نہیں بدلے گی۔ ابھی تک پاکستان میں دہشت گردی کا ملزم ہو، انتہا پسندی کا ملزم ہو کسی کو سزا نہیں ہوئی اورجو لوگ گرفتار ہوتے ہیں اس میں 98 فیصد یا ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں یا بری ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ تو کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کا ہے۔ لوگوں کے پاس بڑی تعداد میں اسلحہ ہے اس کے ہوتے ہوئے اور جس آزادانہ طریقے سے وہ ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہیں کرسکتے۔ کراچی کی صورتحال بھی اب ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے۔ رینجرزہو ،ایف سی یا پھر فوج جو بھی طریقہ استعمال کریں آپ سختی کے ساتھ لوگوں سے ہتھیار لینے کی ضرورت ہے، ایک بہت بڑے آپریشن کی ضرورت ہے اور اس کے بعد جو لوگ ملزم ہیں جو پکڑے جاتے ہیں انھیں سزا ملنی چاہیے اور سزا ملتے ہوئے نظر بھی آنی چاہیے جو ابھی تک نظر نہیں آئی۔

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

کراچی میں صورتحال ملک کے قبائلی علاقوں جیسی ہوگئی ہے، تجزیہ کار

پروفیسر مہدی حسن نے ماس کمیونیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور تین دہائی سے زائد عرصے سے درس و تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین بھی ہیں۔

اس موضوع پرتمام مکاتیب فکر کی نمائندگی کے لیے جلد ہی مزید انٹرویوز شائع کیے جائینگے۔

XS
SM
MD
LG