رسائی کے لنکس

سمندر ہر سال غالباً انہی مہینوں میں انگنت سیپیاں اگلتا ہے جو لہروں کے ساتھ بہہ بہہ کر کنارے آ لگتی ہیں۔ یہ سیپیاں تعداد میں اس قدر زیادہ ہوتی ہیں کہ دور، دور تک پھیلی یہ سیپیاں ایک لمحے کے لئے ایسی لگتی ہیں گویا تارے زمین پر اتر آئے ہوں

کراچی کے ساحل پر قدرت نے ستارے ٹانک دیئے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں سے تا حد نگاہ ساحل سیپیوں سے سجا ہوا ہے جسے دیکھنے کے لئے لوگوں کی بھیڑ امڈ آئی ہے۔ ساحل پر شوقیہ سیپیاں جمع کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ بچے اور نوجوان اس کام میں پیش پیش ہیں۔

سیپیوں سے جڑی کچھ روایات میں کہا جاتا ہے کہ ان سیپیوں میں قیمتی موتی چھپے ہوتے ہیں اور جس کو بھی یہ موتی مل جائے وہ راتوں رات لکھ پتی بن جاتا ہے۔ اس لئے بھی لوگ سیپیوں کو جمع کرنے ساحل کا رخ کرتے ہیں۔

سمندر ہر سال غالباً انہی مہینوں میں انگنت سیپیاں اگلتا ہے جو لہروں کے ساتھ بہہ بہہ کر کنارے آ لگتی ہیں۔ یہ سیپیاں تعداد میں اس قدر زیادہ ہوتی ہیں کہ دور، دور تک پھیلی یہ سیپیاں ایک لمحے کے لئے ایسی لگتی ہیں گویا تارے زمین پر اتر آئے ہوں۔

سیپیوں میں موتی ملنے کی روایت سچ ہے یا صرف سنی سنائی بات یہ تو معلوم نہیں۔ لیکن، اس تصویر کو دیکھ کر یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ ان سیپیوں میں کیڑے یا خطرناک کیکڑے چھپے ہوتے ہیں۔ سی ویو پر سیپیاں جمع کرنے کے شوقین ایک نوجوان ایسی ہی ایک سیپ دکھا رہا ہے جس میں اس کے بقول، کیکڑا چھپا ہوا ہے۔ تصویر میں صاف طور پر کیکڑے کا منہ اور پیر دیکھے جاسکتے ہیں۔

کیکڑا اپنے شکار کو اپنے پیروں کی مدد سے جکڑ لیتا ہے ۔ کھلے سمندر میں بغیر احتیاط کے نہانے والے افراد کی ٹانگوں میں کیکڑا چپٹ جائے تو اسے الگ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ انسانی گوشت میں اپنی سوئیوں جیسی تیز دھار والی ٹانگوں سے سوراخ کر لیتا ہے۔

ساحل پر موجود کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے ملازم نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ سیپیاں اس قدر زیادہ تعداد میں ساحل پر آکر جمع ہو جاتی ہیں کہ ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں میں بھر بھر کر انہیں یہاں سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے اور اس کام میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں ۔

سیپ کو ’کوڑی‘ بھی کہاجاتا ہے ۔ ہوسکتا ہے بعض تاریخ حوالوں میں ایسا کچھ لکھا ہو کہ کسی زمانے میں ’کوڑی‘ بطور کرنسی استعمال ہوتی ہو اسی لئے یہ اس جیسے کئی محاورہ وجود میں آئے کہ فلاں چیز ’دوکوڑی‘ کی بھی نہیں ۔۔یا ۔۔۔ کسی شے کو کوڑیوں کے بہاؤ بیچنا ۔۔وغیرہ، وغیرہ۔

قدیم زمانے میںکوڑیوں سے ایک کھیل بھی کھیلا جاتا ہے اور جو بہت مشہور تھا۔ یعنی’ چوپٹ کہا جاتا تھا۔ اسی سے ملتا جھلتا ایک اور گیم ’پچیسی‘ بھی تھا جو لوڈو کی طرز پر کھیلا جاتا ہے۔ ان دنوں کھیلوں میں کوڑیاں بطور ’ڈائس‘ یا لوڈو کے ’دانے‘ (چھکے) استعمال ہوتی تھیں۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب’مہابھارت‘ میں بھی اس کھیل کا تذکرہ موجود ہے ۔ ’مہابھارت‘ کے دو کردار ’یودشٹر‘ اور ’دریودھن‘ اس کھیل کے ماہر بتائے جاتے ہیں۔

سیپ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے سائز میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے کچھ مختلف سائز اس تصویر میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سب سے بڑا سائز بطور ’سنکھ‘ استعمال ہوتا ہے۔ ہندوؤں برادری میں ’سنکھ‘ بجانا صدیوں پرانی روایات کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ گزرے زمانے میں کرکٹ اسٹیڈیم میں لوگ میچ دیکھنے جاتے تو اکثر اپنے ساتھ ’سنکھ‘ لے جاتے اور پسندیدہ کھلاڑی یا ٹیم کی اچھی کارکردگی پر اسے بجایا جاتا تھا۔ یہ شور نوجوانوں کے جوش کو بڑھاتا تھا تو ٹیموں اور کھلاڑیوں کے لئے سنکھ کی آوازیں حوصلہ مندی اور دیکھنے والوں کی طرف سے بھرپور ’داد‘ ملنے کی علامت ہوا کرتی تھیں۔

اب وہ دور نہیں رہا ۔یوں تو سیپوں سے بنی چیزیں مختلف چیزیں مثلاً ڈیکوریشن آئٹمز، ہار بندے، چوڑیاں، مالائیں، فوٹو فریم، ہیرپن اور اس جیسے انگنت آئٹمز بنائے اور بیچے جاتے ہیں مگر ان کے بیچنے اور خریدنے والے کم ہوتے ہوتے صرف ساحل تک ہی محدوو ہوگئے ہیں۔ یوں بھی ’فیس بک ‘، ٹوئیٹر‘ اور ’یوٹیوب جنریشن‘ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG