رسائی کے لنکس

رنگ برنگے پرندوں کی سریلی بولیوں سے گونجتی کراچی کی ’پرندہ مارکیٹ‘


رنگ برنگے پرندوں کی سریلی بولیوں سے گونجتی کراچی کی ’پرندہ مارکیٹ‘

رنگ برنگے پرندوں کی سریلی بولیوں سے گونجتی کراچی کی ’پرندہ مارکیٹ‘

کراچی شہر کی جہاں اور بہت ساری باتیں قابل ذکر ہیں ،وہیں شہر کے وسط میں واقع علاقے لیاقت آباد میں پچھلے 50سال سے ہر اتوار کو لگنے والی پرندوں کی منڈی بھی ملک بھر میں مشہور ہے۔اسی منڈی کے حوالے سے یہ کہاوت بھی جانی پہچانی ہے کہ اگر کسی کو قدرت کے عطا کردہ انتہائی حسین اور دلفریب رنگوں سے سجے پرندوں کودیکھنا اور ان کی سریلی بولیوں کو سننا ہو تووہ اس بازار کا رخ کرتا ہے ۔

یہاں پرندوں خصوصاً طوطوں سے باتیں کرتے لوگ بھی خوب ملتے ہیں۔ ”مٹھو بیٹے چوری کھاوٴ گے‘اور جواب میں بڑی واضح انداز کی ’ہاں ‘ پر جب آپ بے اختیار گردن گھما کر دیکھتے ہیں تو خوبصورت سے طوطے کو اپنے مالک کے ساتھ محو گفتگو پاتے ہیں۔یہ اور اسی طرح کے دیگر دلچسپ مناظر سے سجی یہ مارکیٹ ایشیا میں پرندوں کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی کہی جاتی ہے۔

یہاں ایسے افراد بھی ہیں جن کی عمر یں پینسٹھ اور ستر سال ہیں اور جو اپنے بچپن سے پرندوں کی خریدفروخت سے منسلک ہیں۔عبدالرشید بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔انھوں نے وی او اے کے ساتھ گفتگو میں گزرے زمانے کو یاد کرتے ہوئے بتایا ” شروع شروع میں گنتی کے چند افراد سڑک کے کنارے گاہکوں کے انتظار میں پرندوں کے پنجرے لے کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ بس اسی کو آپ منڈی کی شروعات کہہ لیجئے۔۔۔۔۔اب تو خیر یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی“

عبدالرشیدکا کہنا ہے ”یہاں بیشمار اقسام کے پرندے دستیاب ہیں جن کی قیمتیں ان کی نسل، رنگ اور افزائش کے حساب سے متعین کی جاتی ہیں۔یہا ں دوسو روپے سے لیکر ایک لاکھ اور بسااوقات اس سے بھی زیادہ مالیت کا پرندہ فروخت کے لئے موجود ہوتا ہے۔ اتنے مہنگے پرندے کی خریداری ، خریدار کے شوق اور جیب پر منحصر ہوتی ہے۔“

مارکیٹ کے ایک اور دکاندار عمران علی کے مطابق ”پاکستا ن کے ہر علاقے سے یہاں لوگ اپنی پسند کے پرندے خریدنے آتے ہیں۔کچھ لوگوں کے فارم ہاوٴس ہیں جہاں وہ پرندوں کو اچھی خوراک دیتے اور ان کی ہر طرح سے دیکھ بھال کرتے ہیں۔ایسے پرندے اچھی افزائش نسل کی وجہ سے منہ مانگے داموں بک جاتے ہیں۔“

پرندوں کی منڈی اسی علاقے میں کئی بار اپنی جگہ بدل چکی ہے۔اس کی وجہ مارکیٹ کا روز بہ روز بڑھتا ہوارش ہے ۔ بھیڑ کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی چلتے چلتے رک جائے تو پیچھے سے چلتے رہنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں کیونکہ ایک دو آدمی رکے نہیں کہ پیچھے پوری بھیڑ رک جاتی ہے۔

اس مارکیٹ کے ایک دیرینہ گاہک سید شاہد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک زمانے میں یہاں پرندوں کے علاج کے لئے ایک مشہور اسپتال بھی تھا مگر اب صرف اس کانام ہی بچا ہے۔اس کی ایک وجہ مہنگائی اور دوسری پرندوں کے مالکان کا خود ڈاکٹر بن جانا ہے ۔ماضی میں ایسے نیم حکیم یا ڈاکٹر ان بے زبان پرندوں کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہوئے ہیں ۔ “

ہزاروں لوگوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ میں مختلف خوانچہ فروش بھی نمایاں نظر آتے ہیں جو منڈی آنے والوں کوسستے نرخوں پر کھانا اور چائے فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پرندوں کی ہر قسم کی خوراک بیچنے والوں کا بھی رش رہتا ہے ۔تیلیوں اور نائلون کی ٹوکریوں کے علاوہ طرح طرح کے پنجرے بیچنے والے بھی مارکیٹ کا حصہ ہیں۔بعض شوقین حضرات ان کی سجاوٹ کے لئے رنگ برنگی اشیاء بھی خوب خریدتے ہیں۔

پرندوں کی سریلی بولیوں سے گونجتا یہ بازار بے حد پرکشش ہے لیکن اس میں پرندوں کی بہتری کے لئے کچھ اقدامات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر انتظامیہ اس شاندار اور قدیم مارکیٹ پر توجہ دے تو خریدار اور پرندے دونوں ہی مزید خوش نظر آئیں گے۔

XS
SM
MD
LG