رسائی کے لنکس

کراچی : ایس ایس پی، سی آئی اے دھماکے کی تفتیش کنفیوژن کا شکار


کراچی : ایس ایس پی، سی آئی اے دھماکے کی تفتیش کنفیوژن کا شکار

کراچی : ایس ایس پی، سی آئی اے دھماکے کی تفتیش کنفیوژن کا شکار

کراچی میں ایس ایس پی ،سی آئی کے گھر ہونے والے بم دھماکے کو تین روز گزر چکے تاہم تفتیشی ادارے روایتی انداز میں اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ یہ دھماکا خود کش تھا یا پہلے سے نصب بم کا۔

تفتیشی اداروں کی جانب سے ایسی صورتحال پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئی بلکہ اس سے قبل دسمبر دو ہزار نو میں یوم عاشور کے موقع پر ہونے والے دھماکے سمیت دیگر واقعات میں بھی پولیس نے پہلے دھماکوں کو خود کش قرار دیا اور بعد میں حقیقت کچھ اور سامنے آئی۔

پیر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے گھر پر ہونے والے حملے کے بارے میں پولیس حکام کا خیال تھا کہ یہ خود کش حملہ ہے تاہم تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی جانب سے وزیر داخلہ رحمن ملک کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خود کش حملہ نہیں تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ تحقیق کے بغیر کوئی بھی ادارہ دھماکے کو خود کش یا نصب شدہ بم کا حملہ قرار نہیں دے سکتا۔ خود کش حملے سے متعلق عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ اس کو روکنا نہایت مشکل ہوتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پرواقعہ کو خودکش حملہ قرار دے کربری الذمہ ہونا چاہتے ہیں بصورت دیگر انہیں بے شمار سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سانحہ ایم اے جناح روڈ کے فورا ً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے خود کش حملہ قرار دیا جس میں 43 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، اس حوالے سے بتایا گیا کہ عبدالرزاق نامی رینجرز اہلکار نے خود کش حملہ آور کو دبوچ لیا اوریوں دھماکے کی شدت کم ہوگئی ، رینجرز اہلکارکی نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ سمیت گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی شرکت کی اور اسے ہیرو قرار دیا گیا تاہم واقعے کے ایک ہفتہ بعد آئی جی سندھ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ یہ خود کش حملہ نہیں تھا بلکہ دھماکا خیز مواد مقدس اوراق کے ڈبے میں رکھا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے اڑا دیا گیا۔

اس کے علاوہ 25 جنوری دو ہزار گیارہ کو کراچی کے علاقے ملیر میں حضرت امام حسین کے چہلم کے موقع پر پولیس وین پر ایک حملہ ہوا۔ پولیس حکام نے فوری طور پر بتایا کہ ایک خود کش موٹر سائیکل سوار نے خود کو پولیس وین سے ٹکرا دیا تاہم بعد میں بتایا گیا کہ دھماکا خیز مواد پولیس وین کے پاس کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں تین اہلکاروں سمیت چار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اس کے بعد 28 اپریل کو بھی ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب شاہراہ فیصل پر نیوی کی ایک بس کو نشانہ بنایا گیا ، پہلا موقف تھا کہ موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور نے خود کو بس سے ٹکرایا تاہم بعد میں پتہ چلا کہ یہ ایک نصب بم دھماکا تھا ، اس واقعہ میں پانچ قیمتی جانوں کا ذیاں ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG