رسائی کے لنکس

عوامی نیشنل پارٹی ‘اے این پی’ کے بشیر جان کو اس وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جب وہ اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک ‘کارنر میٹنگ’ سے خطاب کے لیے پہنچے تھے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں ایک روز قبل انتخابی امیدوار پر ہونے والے بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے جب کہ 50 سے زائد زخمیوں میں اکثر کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مرنے والے سات افراد کی نماز جنازہ ہفتہ کو مومن آباد میں ادا کردی گئی۔

جمعہ کی شب اس بم دھماکے کا ہدف عوامی نیشنل پارٹی ‘اے این پی’ کے انتخابی امیدوار بشیر جان تھے جو اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک ‘کارنر میٹنگ’ سے خطاب کے لیے مومن آباد پہنچے تھے۔ تاہم بم حملے میں بشیر جان محفوظ رہے۔

اے این پی کے رہنما شاہی سید نے اس حملے کے خلاف ہفتہ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور کاروباری مراکز بند نہیں ہوں گے۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح کراچی ہی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اُمیدوار عبد الرحمان کی گاڑی پر بھی کریکر بم پھینکا گیا تھا۔

کراچی میں اس ہفتے کے دوران شہر کے دو مختلف علاقوں میں منگل اور جمعرات کو متحدہ قومی مومومنٹ کے انتخابی دفاتر کو بھی بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں مجموعی طور پر دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

دہشت گردوں کے حملوں کے باعث سابق حکمران اتحاد میں شامل تین جماعتیں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی اپنی بھرپور انتخابی مہم شروع نہیں کر سکی ہیں۔
XS
SM
MD
LG