رسائی کے لنکس

کراچی میں بدامنی کے باعث بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ


کراچی میں بدامنی کے باعث بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ

کراچی میں بدامنی کے باعث بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ

کراچی میں حالیہ بدامنی، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد جہاں عام آدمی اپنی حفاظت سے متعلق انتہائی احتیاط برتنے لگا ہے وہیں بڑے بڑے تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے ساتھ ساتھ اسمبلی ممبران اور وزراء نے بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ کردیا ہے۔

بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرنے والوں میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اسمبلی ممبران سرفہرست ہیں۔ان کے بعد گورنر ، تاجربرادری اور صنعت کاروں کا نمبر آتا ہے ۔ ان میں سے کچھ افراد کے پاس بیرون ملک سے درآمد کردہ بلٹ پروف گاڑیاں ہیں جبکہ زیادہ تر افراد نے مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کو بلٹ پروف گاڑیوں میں تبدیل کرالیا ہے ۔ لاہور کی ایک نجی کمپنی گاڑیوں کو بلٹ پروف بنانے میں مصروف عمل ہے۔

ایک عام گاڑی کو بلٹ پروف گاڑی بنانے میں پانچ سے چھ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ بلٹ پروف بنانے کے لئے ایک خاص قسم کی دھات استعمال کی جاتی ہے ۔ اس دھات کے استعمال سے گولی گاڑی کی باڈی کے آر پار نہیں ہوسکتی۔

ایک تاجر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے ۔ حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر تاجر برادری میں بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال بڑھ رہا ہے حالانکہ کہ اس پر اچھی خاصی رقم خرچ ہوتی ہے۔

انگریزی روزنامے ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرنے والے نمایاں افراد میں سندھ کے گورنرڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ، سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا ، موجودہ وزیرداخلہ منظور وسان، بلدیات کے وزیر آغا سراج درانی ، سندھ کے وزیر برائے مالیات مراد علی شاہ ، قانون سازی کے شعبے سے وابستہ اور صدر زرداری کی بہن فریال تالپور اور ڈاکٹر عذرا شامل ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزابیک وقت 2 سرکاری بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرتے تھے۔ اگرچہ صوبے میں امن و امان کے قیام کی سب سے بڑی ذمے داری صوبائی وزیر داخلہ پرہی عائد ہوتی ہے لیکن سابق وزیر داخلہ کے علاوہ موجودہ وزیرداخلہ سندھ منظور وسان بھی بلٹ پروف گاڑی استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ بلٹ پروف گاڑیوں کے علاوہ تمام اسمبلی ممبران کے پاس پولیس گارڈ ز بھی موجود ہیں جو دن رات ان کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG