رسائی کے لنکس

کراچی: دو حلقوں میں پولنگ، سیاسی گروپوں کے درمیان تصادم


نارتھ ناظم آباد کا ایک پولنگ اسٹیشن

نارتھ ناظم آباد کا ایک پولنگ اسٹیشن

الیکشن کمیشن نے پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی تھی۔ تاہم، اس کے باوجود، پی ایس 115کے علاقے لائنز ایریا اور جیکب لائنز میں متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا

کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 245 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 115 میں جمعرات کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹنگ مجموعی طور پر پرامن ماحول میں ہوئی۔ تاہم، کچھ حلقوں میں کارکنان ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔ لیکن، خوش قسمتی سے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

جمعرات کو جہاں ایک جانب پولنگ اسٹیشنوں اور بوتھوں پر ووٹروں کی گہماگہمی رہی، وہیں پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے متعدد ہنگامی پریس کانفرنسوں کی وجہ سے سیاسی ماحول گرم رہا۔

اس گرما گرم سیاسی ماحول کی اصل وجہ یہ تھی کہ پولنگ سے صرف چند گھنٹے پہلے تک پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے اپنے حق میں ووٹ مانگنے والے امجد اللہ خان اچانک اپنی جماعت سے منحرف ہوگئے اور بدھ کو رات گئے انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

پیپلز پارٹی کے الیکشن کیمپ میں ووٹرز کی گہما گہمی

پیپلز پارٹی کے الیکشن کیمپ میں ووٹرز کی گہما گہمی

امجد اللہ خان نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی سے پی ٹی آئی چھوڑ کر ایم کیو ایم میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پارٹی چلانا عمران خان کے بس میں نہیں، پارٹی میں بڑی حد تک ’صفائی‘ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے متحدہ کے مرکز نائن زیرو پہنچ کر ہنگامی پریس کانفرنس بھی کی جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد ’انصاف ہاوٴس‘ پہنچ گئی۔ کارکنوں نے مقامی قیادت پر غصہ نکالتے ہوئے احتجاج کیا اور اس قدر شور شرابہ کیا گیا کہ پہلے سے طے شد ہ پریس کانفرنس ملتوی کرنا پڑیْ ۔

پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما نجمی عالم نے میڈیا کے روبرو الزام لگایا کہ امجد اللہ خان نے الیکشن سے دستبرداری سے قبل مالی فائدے کے عوض پیپلز میں شمولیت کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، امجد اللہ خان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے متحدہ میں شامل ہوئے ہیں۔

حلقہ این اے 245 اور پی ایس 115 کی نشستیں ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ریحان ہاشمی اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر ارشد وہرا کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ دونوں رہنماوٴں نے 5 دسمبر 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد بلدیاتی حکومت میں اہم ذمہ داریاں سونپے جانے کے باعث اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دو گروپوں میں تصادم
اس سے قبل جمعرات کو پولنگ کے دوران لائنز ایریا میں متحدہ قوومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا جس سے پورے دن کشیدگی پھیلی رہی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی تھی تاہم اس کے باوجود پی ایس 115کے علاقے لائنز ائیر اور جیکب لائنز میں متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا۔

تصادم کے نتیجے میں کشیدگی پھیل گئی، کارکنوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی، ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔ تاہم، پولیس اور ینجرز کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر کارکنوں کے منتشر کردیا جس سے امن وامان کی صورتحال جلد معمول پر آگئی۔

دوسری جانب گرلز سیکنڈری اسکول جٹ لائن کے ایک پولنگ ایجنٹ پر کچھ خواتین بھی آپس میں لڑ پڑیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ کاروباری مراکز اور دکانیں بھی بند کرادی گئیں۔

نارتھ ناظم آباد کے علاقوں پہاڑ گنج اور عبداللہ کالج کے قریب واقع پولنگ بوتھس کے قریب سیاسی جماعتوں کے الیکشن کیمپس اکھاڑنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

شادمان ٹاون میں متحدہ کا الیکشن کیمپ

شادمان ٹاون میں متحدہ کا الیکشن کیمپ

این اے 245 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 9 ہزار 655 ہے جبکہ پی ایس 115 میں یہ تعداد ایک لاکھ 62 ہزار ووٹرزہے ۔ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے مجموعی طور پر 227 پولنگ اسٹیشنز جبکہ صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے لئے 83 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے تھے۔

این اے 245 میں ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت 16 امیدوار اورپی ایس 115 میں 14 امیدوار ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے۔

XS
SM
MD
LG