رسائی کے لنکس

ریلی میں شریک مختلف اسکولوں کے طلبا کا کہنا تھا کہ ’پشاور میں ہونےوالا اسکول کے طلبا پر حملہ ہم نوجوانوں کو ڈرانے کیلئے کیا گیا ہے۔ مگر، ہم دہشتگردوں سے ڈرتے نہیں۔ ہلاک کیے گئے بچے دہشتگرد نہیں تھے‘

کراچی: پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح، شہر کراچی میں بھی گزشتہ روز گزرنے والے سانحہٴپشاور میں دہشتگردوں کے حملے میں 140 سے زائد بچوں اور اسکول اسٹاف کی ہلاکتوں کے خلاف شہر کراچی میں بھی اسکولوں، کالجوں اور سول سوسائٹی کے ممبران نے احتجاجی ریلیاں نکالیں، اور ہلاک ہونے والوں سے اظہار عقیدت کیلئے شمعیں روشن کیں۔

ریلی میں شریک مختلف اسکولوں کے طلبا کا کہنا تھا کہ ’پشاور میں ہونےوالا اسکول کے طلبا پر حملہ ہم نوجوانوں کو ڈرانے کیلئے کیا گیا ہے۔ مگر، ہم دہشتگردوں سے ڈرتے نہیں۔ ہلاک کیے گئے بچے دہشتگرد نہیں تھے۔‘

ریلی میں شریک طلبا و طالبات کا اتنے بڑے پیمانے پر ہونےوالی ہلاکتوں کیخلاف اعلی حکام سے سخت نوٹس لے کر ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات بھی کئے گئے اور دہشتگرد عناصر کیخلاف بھرپور کاروائی کرنے کیلئے مطالبات کو نعروں کی شکل میں پیش کیا۔

ایک طالبعلم نے وی او اے سے گفتگو میں کہا کہ ’طالبان نے بچوں کو شہید کیا ہے۔ ہم اظہار یکجہتی کرنے یہاں آئے ہیں۔ کل ہمارے ملک کا ایک سیاہ دن تھا‘۔

ایک اور طالبہ کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے جیسے بھائیوں کی ہلاکت پر یہاں احتجاج میں شامل ہوئے ہیں۔ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سزائے موت دینی چاہئے‘۔

سول سوسائٹی کے ممبران کا کہنا تھا کہ ’ملک کے معماروں کو مارا گیا ہے۔ ملک کے مستقبل پر ضرب ہے تمام ٹیچرز اساتذہ سول سوسائٹی اس اقدام کو مذمت کرتی ہے‘۔

ریلیوں کے شرکا گزشتہ سانحے کے خلاف مذمتی بیانات اور تحریروں والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جسمیں بچوں کی ہلاکت کی پرزور مذمت کا اظہار کیا گیا تھا۔

مختلف علاقوں سے نکلنےوالی ریلیاں کراچی کے پریس کلب کے باہر جمع ہوئیں جہاں گزشتہ روز ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں شمعیں بھی جلائی گئیں۔

کراچی میں دیگر علاقوں سے نکلنے والی مختلف اسکول کی تنظیموں سمیت انسانی حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کے ممبران اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

XS
SM
MD
LG