رسائی کے لنکس

کراچی: عدالت نے بلوچ کارکنوں کو سفر کی اجازت دے دی


سندھ ہائی کورٹ

سندھ ہائی کورٹ

پاکستان کی ایک عدالت نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم " وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز" کے دو سرگرم رہنماؤں، عبدالقدیربلوچ "ماما قدیر" اور فرزانہ مجید کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنما آزادانہ طور پر جہاں چاہیں سفر کر سکتے ہیں۔

رواں سال مارچ میں ماما قدیر اور فرزانہ مجید کو حکام نے کراچی کے ہوائی اڈے پر امریکہ کے لیے روانہ ہونے قبل روک لیا تھا اور ان سے کئی گھنٹوں تک سوال و جواب کرنے کے بعد واپس چلے جانے کا کہا تھا۔

ماما قدیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی جس میں انھیں بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہ دینے جانے کی وجہ دریافت کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

ان کے بقول منگل کو ان کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق حکام نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ماما قدیر اور فرزانہ بلوچ مبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ماما قدیر اس وقت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں توجہ کا مرکز بنے جب 2014ء میں انھوں نے اپنی تنظیم کے افراد کے ہمراہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا جس کا مقصد لاپتہ افراد کے مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروانا تھا۔

ماما قدیر کے بیٹے عبدالجلیل بھی چند سال پہلے لاپتہ ہو گئے تھے اور پھر 2011ء میں ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG