رسائی کے لنکس

ملزم کے وکیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سماعت کے دوران جج صاحب نے پوچھا کہ دستی بم کیسے چلتا ہے؟ جس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ وہ کھول کر دیکھتا ہے، یہ کہتے کہتے پولیس اہل کار نے دستی بم کی پن نکال لی اور دھماکا ہوگیا

کراچی ’اتفاقات‘ کا شہر نہیں۔ لیکن، پھر بھی کبھی نہ کبھی کچھ ایسے ’اتفاقات‘ ہوہی جاتے ہیں جو کبھی دلچسپی اور کبھی حیرت کا باعث ہوتے ہیں۔ پیر کو بھی یہاں ایک ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ ہوا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر تین میں لیاری گینگ وار کے ملزم ولی بلوچ کے مقدمے کی سماعت جاری تھی کہ پولیس کی جانب سے ’کیس پراپرٹی‘ کے طور پر لایا گیا دستی بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ واقعے کے نتیجے میں کورٹ کلرک اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

تاہم، ڈی آئی جی سائوتھ ڈاکٹر جمیل کا کہنا ہے کہ دھماکا دستی بم کا نہیں بلکہ ڈیٹونٹر پھٹنے سے ہوا جو عدالتی حکم پر لایا گیا تھا۔ ملزم ولی بلوچ کے خلاف ایک سال سے پولیس مقابلے، دھماکا خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا مقدمہ ایک سال قبل درج کیا گیا تھا۔

ملزم کے وکیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سماعت کے دوران جج صاحب نے پوچھا کہ دستی بم کیسے چلتا ہے؟ جس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ وہ کھول کر دیکھتا ہے، یہ کہتے ہوئے پولیس اہل کار نے دستی بم کی پن نکال لی اور دھماکا ہوگیا۔

دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے غفلت برتنے پر پولیس اہلکار کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG