رسائی کے لنکس

کراچی میں تشدد کے واقعات صرف لسانی نہیں سیاسی بھی ہیں، سپریم کورٹ


کراچی میں تشدد کے واقعات صرف لسانی نہیں سیاسی بھی ہیں، سپریم کورٹ

کراچی میں تشدد کے واقعات صرف لسانی نہیں سیاسی بھی ہیں، سپریم کورٹ

تفصیلی فیصلہ خود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پڑھ کر سنایا جس کے مطابق انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پولیس کے محکمے کو سیاسی وابستگیوں سے پاک کر کے اسے مضبوط بنائے تاکہ وہ امن وامان کے قیام کی ذمہ داریاں موثر انداز میں نبھا سکیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے کراچی میں قتل وغارت گری سے متعلق از خود نوٹس کے مقدمے کی سماعت ستمبر کے وسط میں مکمل کر لی تھی اور اس کا تفصیلی فیصلہ جمعرات کو اسلام آباد میں سنایا گیا۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ ملک کے اقتصادی مرکز کراچی میں ہونے والے خونریز تشدد کے واقعات کی وجہ محض لسانی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے اور شہر کی بڑی جماعتیں مسلح دھڑوں کے ذریعے اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے اور مالی وسائل کے لیے بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔

تفصیلی فیصلہ خود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پڑھ کر سنایا جس کے مطابق انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پولیس کے محکمے کو سیاسی وابستگیوں سے پاک کر کے اسے مضبوط بنائے تاکہ وہ امن وامان کے قیام کی ذمہ داریاں موثر انداز میں نبھا سکیں۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)


فیصلے میں کہا گیا کہ مستقبل میں کراچی کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں حکومت کی ناکامی سے ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے اس لیے ملک و قوم کو ایسی کسی صورت حال سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں امن و امان کو یقینی بنانے کے حوالے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالتی کارروائی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ عدالت نے امن و امان کی بحالی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اب تک کی کارکردگی کو کسی حد تک تسلی بخش قرار دیا ہے۔

’’قانون کی عمل داری کی بحالی اور جرائم پر قابو پانے کے سلسلے میں عمل درآمد شروع ہو گیا ہے، انھوں (عدالت ) نے یہ کہا ہے کہ اس کو جاری رکھا جائے اور اس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت ان اداروں کو تمام سہولتیں فراہم کرے۔‘‘

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران جو شواہد عدالت میں پیش کیے گئے ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد سیاسی جماعتوں کا حصہ بننے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں ایسے عناصر سے قطع تعلق کا اعلان کریں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو کراچی میں قیام امن اور شہر کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے بلا امتیاز کارروائی کرنے اور صوبائی انتظامیہ کو کراچی میں بلا تعطل اقتصادی اور کاروباری سرگرمیوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی میں تشدد کے واقعات سے متعلق سپریم کورٹ کے اس از خود نوٹس کے مقدمے کی ایک فریق جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل افتخار گیلانی نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایم کیوایم کے دوبارہ حکومت میں شامل ہونے کے اعلان کے بعد عدالت فیصلے پر عمل درآمد کے امکانات بہت کم ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ رواں سال کراچی میں تشدد کے واقعات میں 1310 افراد ہلاک ہوئے۔

اقتصادی مرکز کراچی میں جولائی کے مہینے میں قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور شہر میں بدامنی پر عدالت عظمیٰ نے اگست کے اواخر میں ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد اس مقدمے کی پہلی سماعت اسلام آباد میں ہوئی اور پھر کارروائی عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں منتقل کر دی گئی۔

سماعت کے دوران سندھ پولیس کے سربراہ واجد درانی نے بدامنی پر قابو پانے میں پولیس کو درپیش مسائل سے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ فورس کے 30 سے 40 فیصد اہلکاروں کی بڑی سیاسی جماعتوں سے ہمدردیاں ہیں۔

XS
SM
MD
LG