رسائی کے لنکس

کراچی میں گدھوں کی مصروفیات


کراچی میں گدھوں کی مصروفیات

کراچی میں گدھوں کی مصروفیات

کروڑ ،سوا کروڑ کی آبادی والے کراچی کے بارے میں دیگر شہروں کے رہنے والوں کا تجزیہ یہ ہے کہ یہاں ہر شخص کہیں نہ کہیں دوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ کسی کے پاس ٹائم نہیں۔ کوئی دوگھڑی کو بھی رکنے پرا ٓمادہ نہیں۔ سرراہ کسی سے پتہ پوچھنا چاہو تو پہلی نظرمیں سوالی سمجھ کر ہاتھ کے اشارے سے 'معاف کرو' کہتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان تو انسان کراچی کی مشینی اور بھاگتی دوڑتی زندگی میں جانوروں کی مصروفیت کا بھی یہی حال ہے۔

لیاری میں رہنے والے ایک 'گدھے بان ' خیر محمد بلوچ کا کہنا ہے کہ اس کا گدھا صبح ہی صبح گھرگھر جاکر کچرا جمع کرنے والی گاڑی میں جتا ہے۔ بارہ ایک بجے کے بعد وہ کرائے پر چلنے والی گدھا گاڑی میں جوت دیا جاتا ہے ۔ یہ گاڑی اینٹوں اور سیمنٹ کے تھلے سے ریتی ، بجری ، بلاک اور سیمنٹ سپلائی کرتی ہے۔ شام کو یہی گدھا گاڑی سریہ ڈھونے کے کام آتی ہے ۔ شام ڈھلے سے رات گئے تک پرچون کی دکان والا گھر گھر سودا سلف پہنچانے کا کام بھی اسی گدھے سے لیتا ہے۔ بچا اتوار اور دیگر چھٹیوں کا دن تو اس روز گدھا گاڑی ریس بھی بسا اوقات انہی گدھوں کو دوڑادیا جاتا ہے کہ انعام میں بھاری رقم لانے کا سبب بھی یہی گدھا بنتا ہے۔

گدھوں کی مزدوری کا کام یہیں جاکر ختم نہیں ہوتا بلکہ یہی گدھے ریڑی ڈھونے کا کام بھی آتے ہیں۔ کراچی کی شاید ہی کوئی مسجد ایسی ہوگی جہاں نماز کے وقت کوئی گدھا ریڑی کبھی نہ کھڑی ہوئی ہو۔ ابھی رمضان ہی کی بات ہے۔ عصر کی نماز کے وقت مسجد کے گیٹ کے آگے کھڑی گدھا ریڑی پر خربوزے بیجنے اور خریدنے والوں کی لائنیں لگ جایا کرتی تھیں۔

بڑی یا تھوک مارکیٹوں میں چلے جایئے یہ بیچارہ گدھا وہاں بھی کپڑے کے تھان ڈھوتا مل جائے گا۔ انجن آئل کی خالی بوتلوں کا ڈھیر ہو یا جانوروں کا چارہ گدھا ہر جگہ حاضر ہے۔ مٹر کے موسم میں سب سے زیادہ مٹر اسی گدھا ریڑی پر فروخت ہوتی نظر آئے گی۔ کاغذ چنے والے بھی نہایت وزنی اور جہازی سائز کے بوروں کی منتقلی کے لئے یہی گدھا گاڑی استعمال کرتے ہیں۔

کراچی کی الیکٹرک مارکیٹ میں گدھا گاڑی پر رکھا جنریٹر بھی یقینا آپ کے لئے کوئی نئی بات نہ ہوگا۔ صدر کی الیکٹرونکس مارکیٹ میں گدھا گاڑی پر ریفریجریٹر کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اور تو اور کوئٹہ میں گدھا گاڑی پر لدھے پی ایم ٹی کی تصویر بھی اخبار میں چھپ چکی ہیں۔

کراچی کے پرانے علاقے برنس روڈ پر گدھا گاڑی کے ذریعے پانی کی خریدو فروخت بھی عام بات ہے۔ ایک سیانے کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اس نے گدھا گاڑی پر نئے ، پرانے اور جدید کمپیوٹرزکی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہوتے دیکھی ہے۔

سیلاب کے حالیہ دنوں میں ناصرف لوگوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لئے گدھوں کاسہارا لینا پڑا بلکہ جن علاقوں میں ہیلی کاپٹرز اور ٹرکوں کے ذریعے امدادی سامان کی ترسیل ممکن نہیں تھی وہاں بھی گدھا ہی سب سے کامیاب سواری قرار پایا۔ پڑوسی ملک میں کل پرسوں میں ہونے والے عام انتخابات میں تو ایک قدم اور آگے جاتے ہوئے ان گدھوں کے ذریعے نہ صرف بیلٹ پیپرز اوردیگر سامان دور افتادہ علاقوں میں پہنچایا گیا بلکہ بیلٹ بکس بھی انھی گدھوں پر ڈھوئے گئے۔

گدھوں کو اتنی محنت کرتا دیکھ کر ایک پاکستانی شہری نے حالیہ مہینوں میں گدھوں کے حقوق کے لئے نا صرف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا بلکہ جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں سے رابطے کرتے ہوئے ان سے گدھوں کو مارنے یا زخمی کرنے سے روکنے کے لئے بھی قانون کی بنانے جانے کی ضرورت پر زور دیا ۔
یہ بات بھی دلچسپی سے قطعی خالی نہیں کہ کراچی میں گدھے کی قیمت بھی ایک پرانی کار کے مساوی ہے۔ یعنی ایک پرانی کار جتنے پیسوں میں ملتی ہے گدھا بھی اتنی قیمت میں ملتا ہے۔ لیاری کے ایک پرانے رہائشی شکور نے وی او اے کے نمائندے کو بتایا"گدھا خریدنا اور کچھ سالوں کی چلی ہوئی پرانی کار خریدنا قیمت کے لحاظ سے برابر ہے۔ گدھے کی قیمت اس وقت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے جب وہ ریس میں حصہ لینے کے لئے خریدا جائے۔ دراصل ریس والے گدھوں سے مزدوری یا سامان ڈھونے کا کام نہیں لیا جاتا بلکہ ان کی ریس جیتنے کے لئے خاص تربیت پر خاصا خرچہ کرنا پڑتا ہے اس لئے یہ ریس والے گدھے عام گدھوں سے مہنگے ہوتے ہیں۔
اس نمائندے کے ایک سوال پرشکور کا کہنا تھا "گدھے کو ٹرینڈ کرنے کے لئے پہلے سے تربیت یافتہ ایک اور گدھے کے ساتھ گدھا گاڑی میں کچھ دن کے لئے باندھا جاتا ہے ۔ اسے "پخ"کہتے ہیں ۔ پخ کی رسی بھی اسی طرح گاڑی چلانے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جس طرح تربیت یافتہ گدھے کی رسی ہوتی ہے۔ وہ دونوں گدھوں کی رسی ایک ساتھ استعمال کرتا ہے ۔ کچھ دنوں بعدیہ تربیت پوری ہوجاتی ہے اور ایک اور گدھا مزدوی کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
ایک اور سوال پر شکور نے بتایا کہ گدھے کی تربیت میں نفسیاتی حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ گدھوں کو تیز سے تیز تر بھگانے کے لئے ایک خالی ڈبہ بجایا جاتا ہے جس میں کچھ پتھر پڑے ہوتے ہیں ۔ گاڑی چلانے والا جب بھی یہ ڈبہ ہلاتا ہے اس میں پڑے پتھروں کی آواز سن کر ہی گدھا بھاگنے لگتا ہے ۔ دراصل ہم لوگ گدھے کی جب تربیت کررہے ہوتے ہیں تو ڈبہ بجاتے ہی ایک نوک دار لوہے کی سلاخ یا کیل گدھے کی پیٹھ میں چبودیتے ہیں جس کی تکلیف سے ہی گدھا بھگانے لگاتا ہے ۔ ایک مخصوص عرصے کے بعد یہ سلاخ چبونا بند کردیا جاتا ہے مگر ڈبہ بجانا نہیں چھوڑتے ۔۔۔پھر جب بھی ڈبہ بجتا ہے گدھا سوچتا ہے کہ اب کیل آئی اور اب تکلیف ہوئی لہذا وہ تکلیف کے احساس سے ہی سرپٹ دوڑنے لگتا ہے۔
آپ چاہے کچھ بھی کہیں، گدھوں کی دنیا دلچسپی سے خالی نہیں ۔ جس طرح اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی تربیت بالکل الگ انداز میں کی جاتی ہے اسی طرح ریس میں حصہ لینے والے گدھوں کے بھی نہ صرف نخرے اٹھائے جاتے ہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال کے لئے بھی الگ سے انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔
کراچی میں اکثر اتوار کو صبح ہی صبح چندریگر روڈ سے ہوتے ہوئے ٹاور تک گدھا گاڑی ریس ہوتی ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں گدھا گاڑیاں حصہ لیتی ہیں۔ ریس کو دیکھنے والوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہوتی حدتو یہ ہے کہ گدھا گاڑی ریس کے لئے اس دن صبح ہی سے مختلف بغلی راستے بند کردیئے جاتے ہیں اور حالات قابو میں رکھنے کے لئے باقاعدہ پولیس کو تعینات کیا جاتا ہے۔ٹریفک پولیس کے انتظامات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG