رسائی کے لنکس

حالیہ لیار ی آپریشن میں صرف انسان ہی لقمہ اجل نہیں بنے، بلکہ بے زبان جانور خصوصاً گدھے بھی اندھی گولیوں کا نشانہ بنے ۔ یہ گدھے لیاری کے مزدور پیشہ افراد کا ذریعہ معاش تھے ۔ ان کی موت کے ساتھ ہی ناصرف ان کے مالکان بے روز گارہ ہوگئے بلکہ ان کے گھرانوں میں صف ماتم بھی بچھ گئی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی روزی روٹی کا آسرا بھی ختم ہوگیا ہے۔متاثرہ مالکان کی دلی حالت اس وقت کیسی ہے اس حوالے سے انگریزی کے مقامی اخبار ”ٹریبون “نے بدھ کی اشاعت میں ایک دلچسپ مگر چشم کشا رپورٹ مع تصویر شائع کی ہے جس کا اردو ترجمعہ و تلخیص حسب ذیل ہے۔

لیاری کے مکینوں میں ریس کے لئے گدھے پالنے کا شوق دیرینہ ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی خاص اعدادوشمار دستیاب نہیں کہ پوری بستی میں کل کتنے گھروں میں کتنے گدھے پالے جاتے ہیں لیکن اندازہ ہے کہ یہاں گدھے پالنے کا شوق رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔ بعض افراد کو اپنے گدھوں سے اتنا ہی پیار ہے جیسا ایک انسان کو اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ اسی لئے جب حالیہ آپریشن میں بے زبان گدھے اندھی گولیوں کا نشانہ بنے تو ان کے مالکان کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔

ایک مکین اورگدھے کے مالک عاشق بلوچ کہتے ہیں کہ میرا گھر بہت چھوٹا ہے۔ اس میں چھ بچوں کے ساتھ ایک گدھا نہیں رہ سکتا ۔ جس وقت فائرنگ شروع ہوئی، ’پنا‘ گھر کے سامنے بندھا ہوا تھا ۔فائرنگ اتنی شدید تھی کہ میں اسے لینے کے لئے باہر بھی نہیں جاسکا ۔ اسے 10 گولیاں لگیں ۔وہ میرے دیکھتے دیکھتے ہی تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ فائرنگ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اس کی لاش تین دنوں تک گھر کے باہر پڑی رہی اور میں اسے اٹھا بھی نہیں سکا۔ اس کی موت مجھے افسردہ کرگئی ہے ۔ میرا پیسہ تو ڈوبا ہی ۔میری روزی روٹی کا کیا ہوگا یہ بھی مجھے پتا نہیں۔

نامعلوم سمت سے آنے والی اندھی گولیوں کا نشانہ بنے والا ”پنا“ واحد گدھا نہیں تھا بلکہ مجموعی طور پر چار گدھے ان گولیوں کا نشانہ بنے۔ یہ تمام گدھے ہفتہ وار ریس میں حصہ لیا کرتے تھے ۔ ان چاروں گدھوں کی موت کے افسوس میں مکینوں نے گدھا ریس منعقد کرنے والی ایسوسی ایشن ”لیاری ڈنکی کارٹ ایسوسی ایشن “(ایل ڈی سی اے) سے گزارش کی ہے کہ اس بار کی ریس ملتوی کردے۔ واضح رہے کہ اس ریس میں جتنے والے گدھے کے مالک کو پچاس ہزار روپے بطور انعام دیئے جاتے ہیں۔

ایک اور گدھے کے مالک شبیر بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کا بھی گدھا ان واقعات میں مارا گیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ چار گدھوں کی موت چار خاندانوں کی موت کے مساوی ہے۔

لیاری کے مکین مزدور ایک گدھا خریدنے کے لئے مہینوں رقم بچاتے اور جیسے تیسے کرکے جمع کرتے ہیں۔ انہیں ایک گدھا ایک لاکھ روپے میں پڑتا ہے جبکہ ایک گدھے کی پرورش پر ماہانہ بارہ ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ایسے میں گدھوں کی موت نے ان کی کمر ہی توڑ دی ہے۔

گدھا گاڑی ریس منعقد کرانے والی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری فیض محمد بلوچ کا کہنا ہے کہ گدھوں کی موت کے غم میں ہفتہ اور مہینہ وار ریس ملتوی کردی گئی ہے اور اس کی باقاعدہ اطلاع سندھ اسپورٹس بورڈ کو بھی کردی گئی ہے۔ ایل ڈی سی اے اس بورڈ سے الحاق یافتہ ہے۔

مرنے والے چار گدھوں سے 12مزدورں کی روز مرہ زندگی کے معمولات وابستہ تھے ۔ اب یہ تمام افراد بے روز گار ہوگئے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ بے روزگار ہوجانے والے افراد کے لئے مالی معاونت فراہم کرے۔ فیض بلوچ کا کہنا ہے کہ لیاری کے حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ جون کے آخر تک ریس کے لئے سازگار حالات پیدا نہیں ہوسکیں گے۔

لیکن اس کے جواب میں سندھ اسپورٹس بورڈ کے حکام کا دو ٹوک الفاظ میں کہنا ہے کہ متاثرہ مزدوروں کی مالی امداد صرف اسی صورت میں کی جاسکتی ہے جب آئندہ مہینے آنے والے سالانہ ملکی بجٹ میں سے اسپورٹس بورڈ کے لئے حکومت کچھ فنڈز مختص کرے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس صورتحال میں متاثرہ خاندانوں کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG