رسائی کے لنکس

کراچی: 30 کروڑ کی اشتہاری مہم، صرف 16 ہتھیار جمع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

’کراچی کو اسلحےسے پاک کرنے کی مہم پر رقم سپریم کورٹ کی ہدایات پرخرچ کی گئی تھی تاہم بدقسمتی سے اتنی کم تعداد میں ہتھیار جمع ہوئے،‘ وزیراطلاعات سندھ۔ شرجیل میمن۔

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کیلئے شروع کی گئی مہم آج ختم ہو گئی۔ دو کروڑ آبادی والے شہر کراچی سے 15 روزہ اس مہم کے دوران صرف 16 افراد نے اپنے ہتھیار جمع کرائے۔

محکمہ ِداخلہ سندھ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ شہر کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی اس مہم کےدوران 4 رائفلز، 7 پستولیں، 5 شارٹ گنز، 8 میگزینز اور 200 گولیاں شہر کے مختلف ہولیس تھانوں میں جمع کروائی گئیں۔

کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی مہم گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو شروع کی گئی تھی جو بروز ہفتہ 12 اکتوبر کو اختتام پر پہنچی۔ 14روزہ جاری اس مہم پر سندھ حکومت کی جانب سے 30 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ اتنی کم تعداد میں اسلحہ جمع کرایا گیا کہ اس حساب سے فی ہتھیار 18 لاکھ کا خرچہ بنتا ہے۔

وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ، ’اس مہم ہر رقم سپریم کورٹ کی ہدایات پر خرچ کی گئی تاہم بدقسمتی سے ہتھیار بہت کم تعداد میں جمع ہوئے۔‘

شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ، ’مہم کے اختتام کے بعد پولیس اور رینجرز ایکشن میں نظر آئیں گے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دے دیا گیاہے۔‘

واضح رہے کہ کراچی شہر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کیلئے 'اشتہاری مہم' چلائی گئی تھی جسمیں شہریوں کو رضاکارانہ طور پر غیر قانونی اسلحہ جمع کروانے کا کہا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG