رسائی کے لنکس

’’موسیقار احمد چھاگلہ نے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن جس ہارمونیم پر ترتیب دی اس کی مرمت کا کام اور عاطف اسلم کے کوک اسٹوڈیو کی مشہور قوالی 'ہو نگاہ کرم' میں استعمال ہونے والے ہارمونیم ہماری دکان سے خریدا گیا ہے،" دکان کے مالک وقار عباس کی گفتگو

​کراچی کا بندر روڈ یوں تو اپنے تاریخی اعتبار سے کافی مشہور رہا ہے۔ ان قدیم روایات کا ذکر کریں تو یہ آج بھی کہیں کہیں زندہ و پوشیدہ ہیں۔

بندرروڈ پر قائم پرانے ریڈیو پاکستان کی عمارت آج بھی اپنے تاریخی اعتبار سے کئی روشن باب اپنے اندر محفوظ کئے ہوئے ہے۔ وہیں اس عمارت کے احاطےمیں چھوٹی سی گلی 'فنکار گلی' کے نام سے اپنے وقتوں میں کافی شہرت رکھتی تھی۔

ریڈیو پاکستان کے عروج کے دنوں میں کئی نامی گرامی فنکاروں اور موسیقاروں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔ اس گلی میں اب نا کوئی فنکار ہے اور نا ہی کوئی موسیقار۔ مگر آج بھی یہ گلی اپنے پرانے دور سے ’فنکار گلی‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

اب یہاں پہلے جیسی رونقیں نہ رہیں، مگر موسیقی کی ایک قدیم دکان آج بھی فنکار گلی کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

اب یہاں فنکار تو نہیں آتے، البتہ موسیقی کا شغف رکھنےوالے افراد آج بھی اسی دکان سے مستفید ہوتے ہیں۔ پرانے دور سے اب تک اس دکان میں ہارمونیم طبلہ مرمت و فروخت کیے جاتے ہیں، جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔

58 برس قبل محمد سلیم نامی موسیقی کے آلات مرمت کرنےوالے ایک کاریگر نے یہ دکان 1200 روپے میں خریدی، جسے آج ان کے بیٹے سنبھال رہے ہیں۔

وقار عباس ہی اس دکان کے روح رواں ہیں، جو مرمت سے لیکر موسیقی کے مختلف آلات بھی فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں۔

وقار عباس نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں اس دکان کے تاریخی پہلؤں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس دکان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کا قومی ترانہ جس نامور موسیقار، احمد چھاگلہ نے ترتیب دیا، اس کی مرمت اسی دکان پر ہوئی، جو اب حیدرآباد کے ایک میوزیم میں رکھا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ، حال ہی میں نجی ’کوک اسٹوڈیو‘ کے گانوں میں میں استعمال ہونے والا ہارمونیم بھی ان ہی کی دکان کا بنایا ہوا ہے، جبکہ بڑے نامی گرامی موسیقاروں نورجہاں، مہدی حسن، عابدہ پروین اور سجاد علی ان کی دکان سے خدمات لیتے رہے ہیں۔

اس تاریخی دکان کے بارے میں مزید تفصیلات منسلک وڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں:

XS
SM
MD
LG