رسائی کے لنکس

سانحہ کراچی اپنے پیچھے کئی دردناک کہانیاں چھوڑ گیا


سانحہ کراچی

سانحہ کراچی

بدھ کے روز یہ منظر بھی کچھ المناک نہیں تھا کہ فیکٹری اور اسپتالوں کے باہر لوگوں نے اپنے عزیز واقارب کی لاشیں لینے کے لئے لائنیں لگا رکھی تھیں

کراچی کی فیکٹری میں آتشزدگی کا سانحہ اپنے پیچھے کئی دردناک کہانیوں کو جنم دے گیا جنھیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ بدھ کے روز یہ منظر بھی کچھ المناک نہیں تھا کہ فیکٹری اور اسپتالوں کے باہرلوگوں نے اپنے عزیز واقارب کی لاشیں لینے کے لئے لائنیں لگارکھی تھیں۔

شہر کا ایک محلہ”مہاجر کیمپ“ ایسا بھی ہے جہاں چالیس گھروں میں صف ماتم بچھی ۔ کئی بچے یتیم ہو گئے ،بہنیں بھائیوں سے محروم ہو گئیں اوروالدین اولاد کے سہارے سے محروم ہو گئے ۔ چالیس افراد کی نماز جنازہ ایک ساتھ ادا کی گئی۔ اس موقع پر موجود ہر شخص افسردہ تھا جبکہ کئی افراد رقت آمیز انداز میں بھی رورہے تھے۔

مہاجر کیمپ نامی اس بستی میں جیسے ہی واقعے کی خبر پہنچی لواحقین نے فوری طور پر اپنے پیاروں کی تلاش میں دوڑیں لگادیں۔ علاقے کے گھروں سے اس موقع پر چیخیں اور سسکیاں صاف سنائی دیں۔ ہر طرف ماتم کا ساسماں تھا۔

حادثے میں مہاجر کیمپ کی ایک ماں کا سہارا اس کا چھوٹابیٹا جاتا رہا۔ چھ بہنوں کا واحد بھائی اور گھر کا کفیل عمران بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور اپنے پیچھے دکھوں کی طویل داستان چھوڑگیا۔

حادثے کے بعد کئی خاندان زندہ رہتے ہوئے بھی درگورہوگئے۔ایسی ہی ایک کہانی مہاجر کیمپ کے ایک گھرکی ہے جہاں بہنیں رات بھراس آس میں بیٹھی رہیں کہ ان کابھائی عمران بالاآخرگھرلوٹ آئے گا مگران کی آس اس وقت ختم ہوگئی جب انہیں اطلاع ملی کہ عمران علاقے کے دیگر افرادکے ہمراہ اپنی جان بچانے میں ناکام رہااوراپنے خالق حقیقی سے جاملا۔

سانحہ میں اورنگی ٹاوئن بلال کالونی کی رہائشی نجمہ بھی ہلاک ہوئی جو اپنے ایک بھائی اور بہن کی سرپرست اور کفیل تھی۔ مرنے والوں میں ایک اور لڑکی کر ن کی بھی کچھ ایسی ہی کہانی ہے ۔ کرن فیکٹری کے بند دروازوں کے اندر سسک سسک کر زندگی کی بازی ہارگئی۔وہ بھی اپنے گھر کی واحد کفیل تھی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG