رسائی کے لنکس

لانڈھی نمبر چھ میں جمعہ کی شب 2 گروپوں کے درمیان اچانک فائرنگ شروع ہوگئی جس سے شکیل احمد سمیت تین افراد لقمہٴ اجل بن گئے

کراچی میں ووٹنگ سے ایک رات قبل بھی پُرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری رہا۔ لانڈھی کے علاقے میں اورنگی ٹاوٴن کے حلقے پی ایس 95سے مہاجر قومی موومنٹ کے حمایت یافتہ امیدوار شکیل احمدسمیت تین افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔

واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا۔ لانڈھی نمبر چھ میں 2گروپوں کے درمیان اچانک فائرنگ شروع ہوگئی جس سے شکیل احمد سمیت تین افراد لقمہ اجل بن گئے۔ واقعہ کے بعد الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 95اورنگی میں انتخابات ملتوی کردیے۔

مہاجر قومی موومنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شکیل احمد ان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار تھے۔

پنجاب اور بلوچستان میں بھی تشدد

جمعہ کوکراچی کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی پر تشدد واقعات ہوئے جبکہ امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث الیکشن کمیشن نے فاٹا سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 38 میں انتخاب ملتوی کردیا۔ فائرنگ اور دھماکے سے 2 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔

میانوالی کے علاقے ڈھوک میانی میں تحریک انصاف کی رہنما عائلہ ملک کے قافلے پر فائرنگ ہوئی جس سے ان کے 3 محافظ زخمی ہوگئے۔ گجرانوالہ کے علاقے کامونکی میں نواز لیگ کے امیدوار رانا نذیر اور ایک آزاد امید وار عاصم عبداللہ کے حامیوں کے درمیان فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔

جعفرآبا د کے علاقے ڈیرہ الہ یار میں پی بی 26 سے آزاد امیدوار محمد نعیم کھوسہ کے انتخابی دفتر کے قریب دھماکا ہواجس سے چار افراد زخمی ہوگئے ۔فیصل آباد کے علاقے گٹ والا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے تحریک انصاف کے چار حامیوں کو زخمی کردیا۔

بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ سے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد مشتعل افراد نے دو گاڑیوں کو بھی آگ لگادی۔

تشدد کے 77 واقعات، 110 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
پاکستان میں 30مارچ سے 9مئی تک تشدد کے 77واقعات پیش آئے جن میں 110افراد ہلاک اور 370 زخمی ہوئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق انتخابی مہم کے دوران 77 پر تشدد واقعات ہوئے۔ ان میں56 دہشت گردی اور21 سیاسی مخالفت کے واقعات تھے۔

مقامی روزنامے ’ایکسپریس‘ کے مطابق اپریل میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں19،19 سندھ میں11، فاٹا میں5 اور پنجاب میں دہشت گردی کے 2واقعات رونما ہوئے جن میں81 افراد جاں بحق اور 348 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں ان واقعات کیلئے تحریک طالبان پاکستان اور مزاحمت کاروں کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

مقامی نیوز ایجنسی ’آن لائن‘ کے مطابق، خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں 30مارچ سے 9مئی تک دہشت گردی کے32 واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ اے این پی، دوسرے نمبر پر جے یوآئی، تیسرے نمبر پر تحریک انصاف، چوتھے پر پیپلز پارٹی اور پانچویں نمبر پر جماعت اسلامی کو ٹارگٹ کیاگیا۔

خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ 30مارچ تا 8مئی اے این پی کی انتخابی مہم کے دوران 29 دہشت گردحملے ہوئے جن میں اے این پی کے 70کارکن جاں بحق اور 120زخمی ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG