رسائی کے لنکس

انصاری پل سپرہائی وے پر ملیر ندی کے قریب پانچ بچے اپنے کھیل میں مگن تھے کہ اچانک سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آگئے

کراچی میں ہفتے اور اتوار کو ہونے والی طوفانی بارشوں سے پہنچنے والے جانی نقصان کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ منگل کو شہر کے مختلف ندی نالوں سے مزید سات افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ منگل کو ہی ملیر ندی کے سیلابی ریلے کی زد میں آکر پانچ بچے ہلاک ہوگئے۔ جس کے بعد، بارشوں سے مرنے والے افراد کی مجموعی تعداد 42 ہوگئی ہے۔

علاقہ پولیس کے مطابق انصاری پل سپرہائی وے پر ملیر ندی کے قریب پانچ بچے اپنے کھیل میں مگن تھے کہ ان میں سے دو بچے اچانک سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آگئے جنہیں بچانے کے لئے باقی تینوں بچے بھی آگئے۔ مگر سیلابی ریلا اس قدر تیز تھا کہ پانچوں بچوں کو بہا کر لے گیا۔

اِس سے قبل بفر زون میں واقع کے بی آر کے علاقے میں کھلے نالے میں ہفتے کی رات گرنے والی کار کو پاکستان بحریہ کے غوطہ خوروں کی مدد سے نکال لیا گیا۔ کار سے ایک خاتون اور ڈیڑھ سالہ بچے کی لاشیں ملی ہیں۔

بچے کا والد بھی اسی کار میں سوار تھا اور عید کی خریداری کرکے یہ لوگ واپس گھر آ رہے تھے کہ راستے میں طوفانی بارش میں پھنس گئے اور کار بے قابو ہوکر نالے میں جاگری۔ بچی کے باپ کی لاش ابھی تک نہیں ملی۔

بارشوں سے انسانی جانوں کا نقصان تو ہوا ہی ہے، ندی نالوں میں طغیانی کے باعث گٹر اور صنعتی زہریلا فضلہ ملا پانی بغیر ٹریمنٹ کے سمندر میں جانے کے باعث آبی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ نیٹی جیٹی، ایدھی گوٹھ اور ابراہم حیدری کے قریب ہزاروں مچھلیاں مردہ پائی گئیں۔
XS
SM
MD
LG