رسائی کے لنکس

کراچی، فلیٹس کی دنیا یا مکینوں کا جنگل


فلیٹوں میں آباد دنیا

فلیٹوں میں آباد دنیا

ست رنگی روشنیوں اور بادلوں کو چھوتی عمارتوں کا مسکن کراچی، 1885ء میں مشرق کی ملکہ کہلاتا تھا۔یہ ساحلی شہرہے اس لئے ہنر مندوں اورملک بھر سے روزگارکی تلاش میں یہاں آنے والوں کا سال بھر تانتا بندھا رہتا ہے۔ تاجروں اور خریداروں کے لئے بھی یہ شہر کسی جنت سے کم نہیں۔ اپنی غریب پروری کی بدولت دوسرے علاقوں سے یہاں آکرآبادہونے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں اس لئے شہرمسلسل پھیل رہا ہے۔

ہوسکتا ہے کسی دور میں کراچی کی آبادی چند سو نفوس پر مشتمل ہو مگر آج یہ ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اتنی بڑی تعدادکے لئے مکانات کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی تھی۔ اس مسئلے کے حل کے لئے فلیٹ سسٹم کا رواج پڑا۔ یہ سسٹم متوسط طبقے کے لئے قابل قبول تھا ۔ کم خرچ بالا نشیں ہونے کی وجہ سے آج پوراشہر فلیٹس کا جنگل بن گیا ہے۔آج اس شہر میں انگنت اپارٹمنٹس ہیں اور ان اپارٹمنٹس میں لاکھوں لوگ آباد ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تقریباً اتنے ہی اپارٹمنٹس زیر تعمیر ہیں یا آئندہ سالوں میں تیار ہوجائیں گے۔

فلیٹس کے سبب جو علاقے پہلے ویران ہوا کرتے تھے آج بہت زیادہ گنجان ہوگئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ان فلیٹس کی بھی گویا ایک الگ دنیا ہے۔ دیوار سے دیوار ملے فلیٹس۔۔۔ایک ہی چھت کے نیچے سانس لیتے۔۔ ڈھیر سارے مکین ۔ذات پات، اور امیری غریبی سے بے نیاز کھیل میں مست بچے۔

کہیں کہیں تو ایک فلیٹ کے مکین دوسرے فلیٹ کی کھڑیوں ، راہ داریوں اور بالکونیوں سے جھا نکتے ایک دوسرے کے راز سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ کس کے گھر میں ہری مرچ قیمہ پکا ہے اور کس کو چنے کی دال پسند نہیں ۔۔۔یہ انمول معلومات ان فلیٹوں کا ہی تو کرشمہ ہے۔

فلیٹوں کے نیچے یا دائیں بائیں بنی دکانوں سے خریداری بھی فلیٹ میں رہنے والوں کے لئے ایک اضافی سہولت ہے۔ جب گھر کے نیچے دکان ہو تو بھلا دور جانے یا نیچے اترنے کی کیا ضرورت۔ ٹوکری ڈالی اور کام چل گیا۔

۔۔۔اور اب تو ایک اور سہولت گھر کے دروازے پر موجود ہے۔ فلیٹ کے احاطے میں ہی ٹیوشن سینٹر کھل گئے ہیں۔ نہ بچوں کو سڑک پار کرانے کا مسئلہ نہ والدین کو ساتھ جانے کی پابندی۔ بچوں کو ڈبو کھیلنا ہو یا ورزش کرنی ہو سب کچھ یہیں دستیاب ہے۔

لیجئے اذان ہوگئی۔ مگر۔۔۔ٹھہریئے! نماز کے لئے بھی باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ غالباً ہر اپارٹمنٹ میں مسجدآباد ہے۔ وضو کیجئے اور اللہ تعالیٰ کےحضور سر بسجود ہوجائیے۔۔اور شکر ادا کیجئے اس رب کا جس نے اس پوری دنیا کو بنایا اور دی ایسی رہائش جہاں ہر چیز دسترس میں ہے۔

یہ انفرادیت بھی کراچی ہی کو حاصل ہے کہ ملک کے کسی اور شہر میں اتنے زیادہ فلیٹس نہیں جتنے یہاں ہیں۔ یہاں کئی اورپہلو بھی دلچسپ ہیں مگر ان کا تذکرہ کریں گے ہم اگلے جھروکے میں۔۔۔

XS
SM
MD
LG