رسائی کے لنکس

کراچی: نگار خانوں کی نئی دنیا آباد، کروڑوں کی ریل پیل


کراچی: نگار خانوں کی نئی دنیا آباد، کروڑوں کی ریل پیل

کراچی: نگار خانوں کی نئی دنیا آباد، کروڑوں کی ریل پیل

پاکستان فلم انڈسٹری کیا تباہ ہوئی لاہور بھر کے نگار خانے بھی ویران ہوگئے۔ نامور فنکاروں نے گویا فن کی دنیا سے رشتہ ہی توڑ لیا۔ کچھ ایک اس قدر یہ غم لے بیٹھے کہ کئی کئی ماہ اور سال سے بستر پر بیمار پڑے ہیں۔ کچھ گمنا م ہوگئے اور جو بچ گئے ان کا اب لاہور میں دل نہیں لگتا، وہ کام کی تلاش میں رفتہ رفتہ کراچی منتقل ہورہے ہیں۔ گوکہ کراچی میں بھی فلم کے معنی اب سمٹ کر رہ گئے ہیں مگر نئے ٹی وی چینلز کے آجانے سے کراچی میں ڈراموں کی ایک نئی دنیا آباد ہوگئی ہے۔

اسے اتفاق کہئے یا کراچی کا نصیب ۔۔۔ کم و بیش سارے کامیاب تفریحی چینل یہیں سے پروان چڑھے ہیں اس لئے ڈراموں، ٹیلی فلمز، تفریحی، معلوماتی ، مزاحیہ، انفوٹیمنٹ، میوزیکل، کوکنگ و دیگر پروگرامز اور کمرشل فلموں کا سب سے زیادہ اسکوپ بھی یہیں پیدا ہوا ہے۔ اور جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا ہے اس کا دائرہ کار بڑھتا جارہا ہے اس لئے اگر کراچی کو مستقبل کا ممبئی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

"جیو ٹی وی" حالیہ سالوں کی بات ہے مگر اس چینل نے جس تیزی سے اپنی جگہ بنائی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پھر " اے آر وائی ڈیجیٹل" ، "ہم" اور "ٹی وی ون" کے علاوہ متعدد چینلز سے چوبیس گھنٹے ڈرامہ سیریلز اور مختلف پروگرامز پیش کئے جاتے ہیں۔ پھر ان ہی چینلز کے ذیلی چینلزبھی ہیں جو بیرون ممالک سے آپریٹ ہوتے ہیں۔ لہذا کراچی میں فنکاروں اور الیکٹرونک میڈیا میں کام کرنے والوں کے لئے خاصی گنجائش موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں لاہور کے نامی گرامی فنکار نہ صرف کراچی آکر کام کررہے ہیں بلکہ بہت سو ں نے کراچی میں اپنا مستقل مسکن بنالیا ہے۔

اداکارہ لیلیٰ کافی ماہ ہوئے کراچی میں ہی مقیم ہیں اور ان دنوں متعددٹی وی سیریلز میں کام کررہی ہیں۔ اداکار ہ میرا نے بھی کراچی سے حال ہی میں ایک سیریل کی ہے ۔ نرما نے بھی کراچی میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلم انڈسٹری کی ایک اور مشہور اداکارہ ریشم کی تو متعدد ڈرامہ سیریل شہر قائد سے ہی ان دنوں آن ائیر ہوچکی ہیں، ان کا بھی مستقبل قریب میں کراچی میں سیٹل ہونے کا ارادہ ہے۔ سعود ، بابر علی اور معمر رانا جو لاہور فلم انڈسٹری سے ایک عرصے تک جڑے رہے، وہ بھی کراچی کی بیشتر ڈرامہ سیریلز میں کام کررہے ہیں ۔سینئر اداکارہ اور ہدایتکارہ سنگیتا بھی ان دنوں کراچی کی ہی ایک ڈرامہ سیریل میں اداکاری کے ساتھ ڈائرکشن کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ ان دنوں پرائیویٹ پروڈکشنز میں بھی خاصہ 'بوم' آیا ہواہے۔ کراچی کے بیشترٹی وی چینلز کے اپنے اسٹوڈیوز تو ہیں ہی کئی فنکاروں نے بھی اپنے اپنے اسٹوڈیوز کھول لئے ہیں۔ ٹی وی اداکارخالد ظفر ایک عرصے سے 'ندا اسٹوڈیو' کے مالک ہیں۔ ایک اور مشہور پرائیویٹ پروڈکشن کمپنی کے سربراہ غضنفر علی نہ صرف اپنا اسٹوڈیو چلا رہے ہیں بلکہ اب تک بے شمار پروگرامز اور ڈرامے بھی پروڈیوس کرچکے ہیں۔

جب سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پرفارمنگ آرٹس یعنی NAPA نے کراچی میں نئے لوگوں کو ایکٹنگ، پروڈکشن، ڈائریکشن، اسکرپٹ رائٹنگ اور دیگر ٹیکنکل تربیت دینے کا آغاز کیا ہے اس فیلڈ میں بے شمار نئے چہرے اور نئے فنکار پیدا ہوئے ہیں۔ اپنے دور کے شہرہ آفاق آرٹسٹ ضیاءمحی الدین ناپا کے سربراہ ہیں اور اب تک ان کے ہاتھوں انگنت لوگ اس فن کی تربیت لے چکے ہیں۔

نوجوان اسٹیج آرٹسٹ، مصنف اور اداکار انعام حسن اور ڈائریکٹر پروڈیوسر فضاء علی نے بھی اسی انسٹی ٹیوٹ سے تربیت حاصل کی ہے۔ ان دونوں یہ جوڑی 'فلم والا' کے نام سے ایک پرائیویٹ پروڈکشن کمپنی چلا رہے ہیں۔ ان دونوں فنکاروں نے وی او اے سے خصوصی تبادلہ خیال کیا۔ جس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ :اب ہمیں فلم انڈسٹری کی تباہی کا رونا بند کر دینا چاہئے۔ سانپ نکل چکا ہے اب لکیر پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ یوں بھی زمانہ بدل چکا ہے اب ہمیں نئے زمانے کے حساب سے نئے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔ پاکستان میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے۔ اس وقت کراچی کی ڈرامہ انڈسٹری بوم کررہی ہے، نئے لوگ، نئے خیالات کے ساتھ آرہے ہیں۔ انہیں ویلکم کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں جس قدروسیع اسکوپ اب پیدا ہواہے وہ پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ حالیہ برسوں میں ایک ٹی وی چینل نے دو کروڑ روپے میں ایک ڈرامہ بنایا تھا۔ اس کی ڈائریکٹرپی ٹی وی سے تعلق رکھتی تھیں۔ مجھے بتائیے اس سے قبل کوئی سوچ سکتا تھا اتنا مہنگا ٹی وی سیریل بنانے کا؟ یہاں تو کبھی اتنی بڑی رقم میں فلم نہیں بنی ، ڈرامہ کیا بنتا"۔

ایک اور نجی پروڈکشن کمپنی سے وابستہ شخصیت اقبال انصاری کا کہنا ہے: ڈرامہ انڈسٹری مسلسل گرو کررہی ہے۔ پہلے اس شعبے میں بینک سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے اب رفتہ رفتہ بینکنگ سیکٹر بھی اس طرف آرہا ہے۔ بہت ہی محتاط اندازے کے مطابق اس وقت انڈسٹری کا چار سے پانچ کروڑ روپے کا حجم ہے ۔ اسی شہر میں اب دستاویزی فلمیں بھی بن رہی ہیں اور کمرشل فلمیں بھی۔ واضح رہے کہ دستاویزی فلموں پر کمرشل فلموں سے بھی کہیں زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے"۔

کراچی کی ہی ایک اور پرائیویٹ پروڈکشن کمپنی کے روح رواں اور ٹی وی آرٹسٹ شارق کہتے ہیں: آج سے چار پانچ سال پہلے تک کراچی میں کرائے پر کیمرہ اور دیگر ٹیکنیکل ایکویپمنٹ ملنا محال ہوا کرتا تھا۔ آج شہر بھر میں جگہ جگہ یہ سہولت موجود ہے۔ پرائیوئٹ ہی نہیں سرکاری سطح پر بھی میڈیا انڈسٹری میں روزگار کے متلاشی افراد کی تربیت کا آغاز ہوچکا ہے۔

ڈرامہ انڈسٹری ہی جڑے ایک اور فرد عبدالمالک کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی پروڈکشن کمپنی چلاتے ہیں اور ان کی پروڈیوس کی ہوئی دستاویزی فلمیں کئی ممالک کو برآمد ہوچکی ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بے شک پاکستان فلم انڈسٹری پر اب زوال آچکا ہے مگر ڈرامہ انڈسٹری عروج پر ہے۔ پہلے کلفٹن اور ڈیفنس جیسے پوش علاقوں میں شوٹنگز کے لئے بنگلوں اور فلیٹس کی کمی تھی اور اب یہ عالم ہے کہ گلشن اقبال، طارق روڈ، پی ای سی ایچ ایس اور دیگر نسبتاً کم پوش ایریاز میں بھی شوٹنگز کے لئے جگہیں کم پڑ گئی ہیں۔

کراچی کی ڈرامہ انڈسٹری میں عروج کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ متعدد ٹی وی فنکاروں نے نہ صرف اداکاری کی دنیا آباد کی ہوئی ہے بلکہ ان سب کے اپنے اپنے پروڈکشن ہاوٴسز بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہیں ۔ اداکارہ ندا، یاسر نواز، سعود اورجویریا سعود اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔

کراچی کی نامور فلم ڈسٹری بیوشن کمپنی مانڈوی والا فلمز کے سربراہ ندیم مانڈوی والا بھی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے مستقبل کو ابھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حال ہی میں کراچی میں پہلا تھری ڈی سنیما ہال متعارف کرایا ہے جس کے قیام میں کروڑوں روپے خرچ آیا ہے۔ اس سنیما ہال کی تمام مشینری نہایت جدیداور مہنگی ہے۔ اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنا اس جانب واضح اشارہ ہے کہ مستقبل میں کراچی، پاکستان کا ممبئی ثابت ہوگا۔

XS
SM
MD
LG