رسائی کے لنکس

ان تین گھنٹوں میں ہم سب کزنز نے یہاں سمندری پانی میں گیلے ہوجانے والے موٹے کپڑے سکھائے، بھٹے، پاپڑ، کاغذی پلیٹوں میں بچی ہوئی بریانی کھا کر وقت گزارا، ڈھلانوں پر پھسلے، کہنیاں چھلوائیں اور سب سے بڑھ کر۔۔۔وہ تصویریں کھنچوائیں جو آج ہماری نوعمری اور جہانگیر کوٹھاری کی تاریخ کا ایک اہم حصہ اور ۔۔

جدید ترین شاپنگ مالز اور آسمان سے باتیں کرتی عمارتوں، زمین کے دن دگنی اور رات چوگنی بڑھتی قیمتوں اور کرایوں کے سبب کراچی کا ساحل ’عام آدمی‘ کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، جبکہ اسی قطہ اراضی پر واقع ایک تاریخی یادگار ’جہانگیر کوٹھاری پریڈ‘ بھی نئی تعمیرات، بل کھاتے پلوں اور زمین دوز راستوں کے جھرمٹ میں ’گم‘ ہونے لگی ہے۔

دس فروری 1919ء میں جبکہ کراچی، ممبئی کا ہی ایک حصہ ہوا کرتا تھا، اس کے گورنر جارج لائیڈ کے ہاتھوں حد نگاہ تک چوکڑیاں بھرتے سمندر کے کنارے ایک تفریح گاہ کے طور پر تعمیر ہونا شروع ہوا تھا۔ لیکن، کلفٹن کے ساحل پر واقع اس عمارت کو آج نگاہ بھر کر دیکھنے والا بھی کوئی نہیں رہا۔

تاریخ کے سنہری پنوں کو پلٹتے ہوئے کچھ اور پیچھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے اس زمین کے اصل مالک کا نام جہانگیر ایچ کوٹھاری تھا۔ انہوں نے اس وقت کی میونسپلٹی کو یہ جگہ وسیع و عریض تفریح گاہ بنانے کے لئے دی تھی۔یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے کئی لاکھ روپے کا عطیہ بھی دیا تھا، تاکہ اس کی تعمیر میں ضرورت کے مطابق تبدیلی لا کر اسے استعمال میں لایا جاسکے۔

جودھ پور، راجستھان کے سرخ پتھروں سے تعمیر کردہ ’جہانگیر کوٹھاری پریڈ‘ کی افتتاحی تقریب کی مہمان خصوصی گورنر جارج لائیڈ کی اہلیہ تھیں۔ سنگ بنیاد کے موقع پر نصب کی جانے والی تختی آج بھی یہاں نصب ہے۔ لیکن، یہاں آنے والے لاکھوں لوگوں میں سے کچھ ہی کی نگاہ اس پر پڑی ہوگی۔

اسی قدیم تختی کے قریب ایک جدید تختی بھی لگی ہے جس پر آج کے دور کی تاریخ لکھی ہے۔قدیم تختی کی موجودگی میں جدید تختی نصب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ آپ زیر نظر تحریر کے ساتھ دی گئی تصویریں جھلکیوں کو دیکھ کر پتہ کرسکتے ہیں۔

کراچی کے 49سالہ شہری معراج احمد وی او اے سے اپنی یادیں شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’1986ء میں اس کی ایک منڈیر پر بیٹھ کر میں نے ایک تصویر کھینچوائی تھی جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ اس وقت پوری طرح میری مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں اور میں طالب علم ہوا کرتا تھا۔ آج اس پریڈ کے پیچھے جو پارک ٹاور کی جدید عمارت ہے اس کا یہاں نام و نشان تک نہ تھا۔ نہ ہائی پر اسٹار جیسا جدید شاپنگ مال تھا نہ شہرکی سب سے اونچی عمارت ’بحریہ آئیکون‘۔۔یہ پل، یہ انڈر پاس جن کے بیچ میں گھیر کر یادگار تاریخی جہانگیر کوٹھاری گم ہو رہی ہے۔ شاید چند سالوں بعد پاکستان کے واحد سمندری کنارے کی یہ نشانی ۔۔یہ آئیکون اپنی اصل پہچان کھودے۔‘

معراج احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جدید تعمیرات ضرور بنیں۔ لیکن تاریخی عمارتوں کے جنازوں پر نہیں۔۔۔مجھ جیسے لوگوں کو اس یادگار کے اونچی عمارتوں میں چھپ جانے کا غم کبھی ختم نہیں ہوگا۔۔بچن میں ہمارے والدین، بہن بھائی، خالہ، پھپھو اور نجانے کون کون سے رشتے دار نیو کراچی سے ’ڈبلیو گیارہ‘کو کرائے پر لیکر پکنک منانے یہاں آیا کرتے تھے۔ ویگن کوٹھاری کی کئی کئی فٹ اونچی اور پھسلنے والی ڈھلانوں کے قریب ہی صبح کے اوقات میں ہمیں چھوڑ جاتی تھی اور رات کو واپس لینے یہاں آتی تھی۔‘

بقول اُن کے، ’ایک بار اس نے آنے میں رات کے بار ہ بجا دیئے جبکہ طے شدہ وقت نو بجے کا تھا ۔۔ان تین گھنٹوں میں ہم سب کزنز نے یہاں سمندری پانی میں گیلے ہوجانے والے موٹے کپڑے سکھائے، بھٹے، پاپڑ، کاغذی پلیٹوں میں بچی ہوئی بریانی کھاکر وقت گزارا ، ڈھلانوں پر پھسلے، کہنیاں چھلوائیں اور سب سے بڑھ کر۔۔۔وہ تصویریں کھنچوائیں جوآج ہماری نوعمری اور جہانگیر کوٹھاری کی تاریخ کا ایک اہم حصہ اور کبھی نہ بھلائی جانے والی سنہری یادیں ہیں ۔۔۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے سب کچھ واپس آسکتا ہے مگر شاید وہ وقت۔۔وہ لوگ واپس نہیں آسکتے۔۔یہ خیال ہی میرے لئے سوہان روح ہے کہ بڑھاپے میں یہاں کھڑے ہوکر میں اپنے نواسہ ، نواسیوں سے یہ کہوں کہ ۔۔۔اس جگہ ’جہانگیر کوٹھاری‘ نام کی ایک قدیم عمارت ہوا کرتی تھی۔‘

’ہم نے بچپن، نوعمری اور نوجوانی میں اسی عمارت میں کئی کھیل کھیلے تھے ۔۔کاش کہ ارباب اختیار اس عمارت کو تاریخی ورثہ قرار دے کربے رحم وقت کے ہاتھوں سے اسے بچالیتے۔۔۔کاش۔۔۔کاش۔۔کاش ایسا ہوسکتا۔۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ، ’ارباب اختیار میرے ان آخری فقروں پر نظر ثانی ضرور کریں ۔۔ہوسکتا ہے ان کی یادوں میں بھی جہانگیر کوٹھاری کہیں نہ کہں زندہ ہو۔۔۔‘

XS
SM
MD
LG