رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کمیشن برائے انسانی حقوق کی جاری کردہ یہ رپورٹ شہر میں مختلف انسانی رویوں کی انتہا ، عدم برداشت اور انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی کو ظاہر کر رہی ہے۔ ان کے بقول سیاسی بنیادوں پر قتل ہو ، خواتین کے حقوق کی پامالی ہو یا قتل ہونے والے بے گناہ بچے ۔ ملک کے اقتصادی دارالحکومت میں پیش آنے والے یہ واقعات ہر طبقے کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور معاشرے میں پائی جانے والی ناہمواریوں اور عدم برداشت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بتایا ہے کہ کراچی میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران 184 سیاسی کارکنوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا جبکہ اس دوران 250 معصوم جانیں بھی شہر میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی نظر ہو گئیں۔ منگل کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ہلاک ہونے والے سیاسی کارکنوں کا تعلق شہر میں موجود تقریباً تمام جماعتوں سے ہے تاہم ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے ۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف نے بتایا سیاسی اختلافات کے حوالے سے جون کا مہینہ تشویشناک رہا جب متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے صرف تین دنوں کے دوران 32 افراد قتل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں پرتشدد واقعات کی صورتِ حال دیگر شہروں سے مختلف ہے اور تشدد اپنی تمام شکل و صورت میں موجود ہے جس کے خاتمہ کے لیے حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیوں کہ اب صورتِ حال تشویشنا ک ہوتی جاری ہے ۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق کراچی میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں تشدد کے مختلف واقعات میں 1138 افراد قتل ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کے علاوہ شہر میں چھ ماہ کے دوران 56 افراد لسانی تشدد کی نظر ہوئے جن میں ایک خاتون اور چار بچے بھی شامل ہیں۔

زہرہ یوسف

زہرہ یوسف

اس دوران 137 افراد کو اغواء کرکے قتل کیا گیا جبکہ ذاتی دشمنی کے باعث 123 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔ رپورٹ میں 65 خواتین کی ہلاکتوں کا بھی ذکر ہے جو کاروکاری، رشتہ داروں اور نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ، جھلسنے اور ڈکیتی سمیت مختلف واقعات میں ہلاک ہوئیں۔ شہر میں تشدد کے واقعات میں 30 بچے بھی قتل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق تشدد کے دیگر واقعات میں قتل ہونے والوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ بم دھماکوں میں 42 ، لیاری گینگ وار میں 39 ،ڈکیتی کی وارتوں میں 60 ، پولیس مقابلے میں 34افراد جبکہ خود 41 پولیس اہل کار بھی شہر میں مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے۔ اس دوران شہر سے 29 لاشیں بھی ملیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کمیشن برائے انسانی حقوق کی جاری کردہ یہ رپورٹ شہر میں مختلف انسانی رویوں کی انتہا ، عدم برداشت اور انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی کو ظاہر کر رہی ہے۔ ان کے بقول سیاسی بنیادوں پر قتل ہو ، خواتین کے حقوق کی پامالی ہو یا قتل ہونے والے بے گناہ بچے ۔ ملک کے اقتصادی دارالحکومت میں پیش آنے والے یہ واقعات ہر طبقے کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور معاشرے میں پائی جانے والی ناہمواریوں اور عدم برداشت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG