رسائی کے لنکس

سڑکوں اور گلیوں پر جانوروں کا کھلے عام کاٹنا ایک ایسی روایت ہوگئی ہے کہ اسے منع کرنے والا ہی اب ’عجیب‘ لگتا ہے۔ ذبح کئے گئے جانور کا خون گھروں کے آگے دیر تک جمع رہتا ہے۔ جانوروں کی آلائش یا اوجھڑیوں پر حشرات الارض اکھٹا ہوجاتے ہیں اور ...

کراچی کے گلی محلے ان دنوں عجیب منظر پیش کر رہے ہیں۔ کم و بیش ہر گھر کے آگے بکرے، گائیں اور کہیں کہیں اونٹ بندھے ہیں۔ جگہ جگہ گوبر، مٹی کے ڈھیر اور مینگنیاں بکھیری پڑی ہیں جن کی بدبو چارے اور بھوسے کی بو کے ساتھ ملکر سانس لینے میں بھی دشواری کا سبب بن رہی ہے۔

سڑکوں پر منڈیوں سے جانوروں کو لانے لیجانے والی چھوٹی بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں کا رش ہے جس کی وجہ سے جگہ جگہ ٹریفک جام نظر آتا ہے۔ لوسن، کھل، کٹی، چنے، چوکر، بھوسا اور اسی قسم کے دیگر جانوروں کے چارے کی عارضی دکانوں نے بھی کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑی۔

شہر میں بلدیاتی اور صفائی کے ذمے داروں اداروں کی کمی اور عدم توجہی کی وجہ سے کچرا کنڈیاں بھر گئی ہیں، خاکروب جہاں سے پیسے ملتے ہیں بس وہیں ’مصروف‘ نظر آتے ہیں اس لئے مجموعی نظام صفائی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

دس ذوالحج یعنی پیر کو جس دن تمام جانور ذبح ہوں گے اس روز حال اس سے زیادہ برا ہو جاتا ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سابق سنیٹری انسپکٹر محمد صابر حسین وی او اے کو بتاتے ہیں ’شہر کی موجودہ صورتحال اس طرح کی ہے کہ لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں اور فلیٹس میں رہتے ہیں۔ یہ جگہ خود ان کے رہنے کے لئے کم ہوتی ہے جانوروں کا کہاں پال سکتے ہیں، اس لئے عید الاضحیٰ سے کچھ روز پہلے تک گلی محلوں میں گائے اور بکرے باندھے جاتے ہیں اور یہیں ذبح کردیئے جاتے ہیں۔‘

نارتھ ناظم آباد ٹاوٴن کے ایک ضلعی عہدیدار کامران کا کہنا ہے، ’سڑکوں اور گلیوں پر جانوروں کا کھلے عام کاٹنا ایک ایسی روایت ہوگئی ہے کہ اسے منع کرنے والا ہی اب ’عجیب‘ لگتا ہے۔ ذبح کئے گئے جانور کا خون گھروں کے آگے دیر تک جمع رہتا ہے ۔ جانوروں کی آلائش یا اوجھڑیوں پر حشرات الارض اکھٹا ہوجاتے ہیں اور جب تک متعلقہ عملہ نہیں آتا اس سے اٹھنے والا تعفن جینا دوبھر کردیتا ہی‘۔

ان مسائل کا پھر کیا حل ہے؟ کراچی ہی کے ایک کنٹونمنٹ بورڈ کے افسر جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے وی او اے کو بتایا ’ان سب مسائل کا حل عارضی قربان گاہوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان کے لئے ذبح خانوں یا قربان گاہوں کاتصور کوئی نئی بات نہیں لیکن ہمارے یہاں یہ تصور بہت ہی چھوٹی سطح پر ہے ۔۔یوں سمجھئے کہ ابھی یہ تصور پیدا ہی ہوا ہے۔ ۔۔اس ’بڑھنے ‘میں کچھ وقت لگے گا‘۔

جماعت اسلامی کے دیرینہ کارکن اور گلشن جمال کے رہائشی نسیم اختر اس حوالے سے کہتے ہیں، ’جماعت اسلامی کے پاس عملی طور پر ’سلاٹرکیمپس ‘ کا تصور موجود ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں اس بار بھی یہ کیمپس کام کریں گے ۔ یہاں نہ صرف جانوروں کو رکھا اور ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے بلکہ عید کے زور انہیں ذبح کرنے کے بھی تمام انتظامات موجود ہیں ۔۔اور وہ بھی ’حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق۔ لوگ یہاں لاکر اپنے جانور باندھتے ہیں اور ذبح کرتے ہیں، گوشت کی گھروں تک ترسیل کے انتظامات بھی جماعت ہی کی طرف سے کئے جاتے ہیں۔‘

ناگن چورنگی کے قریب رہنے والے حسنین خان بتاتے ہیں ’اگر ایک جماعت کی جانب سے اس طرح کے کیمپس کامیابی سے چلائے جارہے ہیں تو دوسری جماعتوں اور اداروں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے بلکہ میرا خیال ہے کہ بہت جلد ایسا ہی رواج عام ہوجائے گا کیوں کہ قربانی کرنا، جانور سنبھالنا اور بعد میں گوشت کو مناسب انداز میں تقسیم کرنا ۔۔یہ سب آسان کام نہیں رہا۔ لوگوں کو سہولت ملے گی، وقت بچے گا تو کون ایسے کیمپس ، قربان گاہوں یا ذبح خانوں کا رخ نہیں کرے گا۔آج کا تو سب سے بڑا مسئلہ ہی وقت اور سہولت ہے‘۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے کی جانب سے شہر کے مختلف دینی مدارس کے سروے کے بعد یہ واضح ہوا کہ شہر کے بے شمار مدارس اپنے اپنے طور پر لوگوں کے جانوروں کو مدارس کے احاطے میں باندھتے ہیں، ان کی دیکھ کرتے ہیں، گوکہ مالکان سے جانوروں کے چارہ لانے یا اس کے عوض پیسے دینے کا سلسلہ جاری ہے لیکن دس بارہ دن یا مہینہ بھر تک جانوروں کی مدارس کے احاطوں میں رکھنے کا کوئی پیسہ چارج نہیں کیا جاتا۔

عید کے دن یہی مدرسے والے اپنے ماہر قصابوں کو بلاکر گائے اور بکرے ذبح کراتے ہیں۔ ظاہر ہے ذبح کا خرچہ جانوروں کے مالکان ہی اداکرتے ہیں اور گوشت بھی وہ خود اپنے طور پر گھر لے جاتے ہیں لیکن اس سے کئی مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ کم از کم وہ مسائل جن کا ذکر اوپری حصے میں کیا گیا ہے۔

کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن، کنٹونمنٹ بورڈ فیصل اور کچھ دیگر ادارے بھی یہ کام بخوبی انجام دینے لگے ہیں۔

ان کی بدولت ڈیفنس کلفٹن اور دیگر علاقوں کا ماحول گندگی اور غلاظت سے متاثر نہیں ہورہا۔ ان اداروں کی جانب سے جانورں کے عارضی قیام گاہوں کے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر شہری ادارے بھی ماڈل کے طور ان اداروں کی طرح کے عارضی ذبح خانے قائم کرسکتے ہیں۔ بیشک وہ مالکان سے اس کے مناسب چارجز وصول کریں ۔ اس طرح شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد تو ملے گی ہی حفظان صحت کے اصولوں پر قربانی کے جانوروں کا گوشت بھی بلاخوف و خطر استعمال کیا جاسکے گا۔

عارضی قربان گاہیں علاقہ مکینوں کو قربانی کی صاف ستھری اور آسان سہولت فراہم کرسکیں گے اور اپنے ارد گرد کے کمینوں کے لئے ایک غیر آلودہ اور صحت مند ماحول کو بھی یقینی بنانے کا موقع ملے گا۔

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کی جانب سے جو عارضی قیام گاہیں بنائی گئی ہیں وہاں تو خیمے، شامیانے، میزیں، کرسیاں، چٹائیاں، کمبل، کھمبے، کھونٹے ،پینے کا پانی اور دیگر تمام سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ مکینوں کی سہولت اور معاونت کے لئے بورڈ کے نمائندے بھی موجودرہتے ہیں۔

اس سال کلفٹن کنٹونمنٹ کی حدود میں واقع 9 علاقوں میں عارضی قربان گاہیں بنائی گئی ہیں جبکہ کنٹونمنٹ بورڈ فیصل نے بھی درجن بھر کیمپس بنائے ہیں جہاں آلائشیں اٹھانا، انہیں ڈمپنگ گراوٴنڈ میں پہنچانا، قربانی کی جگہوں پر اسپرے اور چونے کا چھڑکاوٴکرنا، علاقے کی صفائی اور آلائشوں کو سائنسی طریقے سے تلف کرنا بھی بورڈ کی ذمے داری ہے۔ اتنی ساری سہولتیں صرف قربان گاہوں کی بدولت ہیں ممکن ہیں۔ لہٰذا، حکومتی اداروں کو بھی اس طرح کے کیمپس کے قیام پر سوچنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG