رسائی کے لنکس

کہیں گولیاں چلیں نشانہ بنیں شہری، کہیں دھماکہ ہوا شہری ہی ہلاک اور زخمی۔ خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو غریب ہو یا امیر، جوان ہو یا بوڑھا، خاتون ہو یا بچہ۔ کوئی پرسان حال نہیں

کہیں گولیاں چلیں نشانہ بنیں شہری، کہیں دھماکہ ہوا شہری ہی ہلاک اور زخمی ۔ خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو غریب ہو یا امیر، جوان ہو یا بوڑھا، خاتون ہو یا بچہ۔ کوئی پرسان حال نہیں۔

کراچی میں فائرنگ اور دھماکوں کی زد میں آکر کراچی کے شہری جانیں گنوا رہے ہیں۔ شہر میں جرائم پیشہ افراد اور ٹارگٹ کلرز کی موجودگی لا اینڈ فورسز کے اداروں کے لئےایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ پولیس اور رینجرز کی نفری میں آئے روز اضافوں کے باوجود شہر کی گلیوں میں گویا موت ناچ رہی ہے۔

کراچی کے باسیوں کے قتل کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لےرہا۔ آئے روز 10 سے 12 افراد کی ہلاکتیں روز کا معمول بنتی جارہی ہیں۔ گزشتہ سال 3000 سے زائد افراد ے قتل سمیت رواں سال کے پہلے ماہ میں 200 افراد کا قتل عام ہوا۔ ان واقعات اور حالات کے باعث شہریوں کی جان و مال کا تحفظ داو پر لگا ہوا ہے۔شہری جان ہتھیلی پر رکھ کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔

کراچی کے ایک شہری بہروز علی نے وائس آف امریکہ کی نمائندہ سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ، ’شہر میں روزانہ اتنے افراد کا قتل ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ قتل کرنے والے افراد اپنی ذاتی انا اور ضد اور بغیر سوچے سمجھے شہریوں کی جانیں لے رہے ہیں۔ایسا ہی چلتا رہا تو قوم کا مستقبل روشن ہونےکے بجائے تاریک ہوجائیگا۔‘

انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ کی نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں دہشتگردی کے حوالے سے ایک بیان میں وفاقی وزیر داخلہ دہشتگردی کی اطلاعات کے بارے میں تو آگاہ کر رہے ہیں مگر یہ نہیں بتارہے کہ وہ ان اطلاعات کیلئے کیا اقدامات کررہے ہیں؟

حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات پر سنجیدگی سے بات کریں مگر سرکاری عہدیدار مسائل کو سلجھانے کے بجائے ایک دوسری پر تنقید میں لگے ہوئے ہیں۔

زہرہ یوسف مزید کہتی ہیں کہ پاکستان کے دیگر تمام شہروں کی نسبت کراچی میں لوگ زیادہ غیر محفوظ ہیں جس نے معاشرے میں ایک غیریقینی کی فضا پیدا کی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ، 2013 ءانتخابات کا سال ہے مگر، بقول اُن کے، ایسا نہیں لگتا کہ کراچی میں اگلے انتخابات پرامن ہوں گے جسکی سب سے بڑی وجہ کراچی میں بھاری مقدار میں اسلحے کی موجودگی ہے۔

اسی حوالے سے کراچی کے نجی اسپتال کے شعبہٴنفسیات کے ڈاکٹر سید علی واصف نے وی او اے سے گفتگو میں کہا کہ، ’کراچی میں جاری قتل کے واقعات پرشہری یہی سوچتے ہیں کہ نہ جانے پل میں کیا ہوجائے؟ ایسے حالات سے شہریوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے شہریوں میں ان واقعات کو دیکھے بغیر صرف سن کر ہی ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے جس سے ذہن میں خوف اور پریشان کن خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں۔

ڈاکٹر واصف مزید کہتے ہیں کہ، ’ڈپریشن اور نفسیاتی دباوٴ میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

شہری ایسے حالات دیکھ کر کڑھ رہے ہیں مگر بے بس ہیں۔ کچھ سال قبل میں اپنے اسپتال میں ایک وقت میں 5 سے 6 مریض دیکھا کرتا تھا، مگر اب ان کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان مریضوں نے بھی دوبارہ رابطہ کیا ہے جو پچھلی بار نارمل ہوگئے تھے۔ شہریوں پر خوف کی فضا طاری ہے‘۔
XS
SM
MD
LG