رسائی کے لنکس

’ احتجاج ختم کریں اور کام پر واپس آئیں‘


بجلی کی بندش کے خلاف عوام آئے روز سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان اختلافات 23روز گزرنے کے باوجود بھی حل نہیں ہوسکے ہیں ۔احتجاج کرنے والے ملازمین کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتا ل پر بیٹھے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ انتقامی رویہ ختم کرکے انھیں کام کرنے دے۔

کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ای ایس سی کے سربراہ تابش گوہر نے اپنے احتجاج کرنے والے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ ہڑتال ختم کرکے فوراً ملازمت پر واپس آئیں کیوں کہ معاملات یا تو بات چیت سے طے ہوں گے یا عدالت کے ذریعے۔سڑکوں پر یا عوام کو تنگ کرکے نہیں۔

بدھ کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو احتجاج کرنے والے ملازمین اور شہر میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کی صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے موجودہ مسائل کے حل کے لیے ایک ایچ آر کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ احتجاج کرنے والے ملازمین کے جائز مطالبات کا سدباب ہوسکے۔ ”ہم مزدور دشمن نہیں لیکن یہ بھی دانش مندی نہیں ہے کہ ایک کشتی میں ضرورت سے زیادہ لوگوں کو بٹھا کر تمام لوگوں کو ڈبو دیا جائے۔ ہمارے تمام اقدامات قانون کے دائرے میں ہیں۔“

تابش گوہر کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگوں کو لوڈشیڈنگ ،نرخوں میں کمی اور ہماری بہتر کارکردگی سے سروکار ہے اس لیے ہم نے تہیہ کرلیا ہے کہ کے ای ایس سی کو ایک فعال ادارہ بنائیں گے۔

تاہم انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان جاری کشمکش کو انھوں نے دو سوچوں کے درمیان تصادم قرار دیا۔” ایک وہ جو عوام کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری وہ جو لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کی مرتکب ہورہی ہے“۔ ان کے بقول سمجھوتہ کرنا آسان کام ہے لیکن اس کے نتائج عوام کو بھتنا ہوں گے۔ انھوں نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ چندشرپسند عناصر ہمیں نقصان پہنچارہے ہیں۔

محمد اخلاق

محمد اخلاق

دوسری جانب کے ای ایس سی کی مزدور یونین کے سربراہ محمد اخلاق نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے شہر میں بجلی کا بحران کوئی آج کی بات نہیں بلکہ گذشتہ کئی سالوں سے ہے تاہم انتظامیہ کی کوتاہیوں نے ٹھیکوں پر غیر تربیت یافتہ لوگ رکھ کر اسے بدترین بنا دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھی تو کام کرنا چاہتے ہیں لیکن سرپلس میں رکھ کر ہم سے کام نہیں لیا جارہا ۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان اختلافات 23روز گزرنے کے باوجود بھی حل نہیں ہوسکے ہیں ۔احتجاج کرنے والے ملازمین کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتا ل پر بیٹھے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ انتقامی رویہ ختم کرکے انھیں کام کرنے دے۔

دوسری جانب شہرکو بجلی کی عدم فراہمی کادورانیہ بڑھ چکا ہے اور مختلف علاقوں میں دس سے زائد گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس پر ردعمل مختلف علاقوں میں سڑکوں پر شدید احتجاج کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

ادارے کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے لیے انتظامیہ کیا کر رہی ہے تابش گوہر نے بتایا کہ گذشتہ اڑھائی سالوں سے جب سے موجودہ انتظامیہ نے امور سنبھالے ہیں تقریباً 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے بجلی کی پیداواری صلاحیت میں چار سو میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ آٹھ نئے گرڈ اسٹیشن لگے ہیں، 250 نئے فیڈرز لگے ہیں۔ پاکستا کا سب سے بڑا زیرِ تعمیر 560 میگاواٹ کا بجلی گھر اس سال کام کرنا شروع کردے گا۔ اس کے علاوہ لانڈھی میں بائیو گیس سے بجلی پیدا کرنے کے ایک بڑے منصوبے پر بھی کام ہورہا ہے ۔ لیکن ان تمام منصوبوں پر کروڑوں ڈالر اور ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا۔

تابش گوہر کہتے ہیں کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہے اگر ایندھن کی فراہمی ، بجلی کا غیر قانونی استعمال اور بلوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے ۔

XS
SM
MD
LG